امریکا نے ایران پر مزیداقتصادی پابندیاں لگادیں 161

امریکا نے ایران پر مزیداقتصادی پابندیاں لگادیں

تہران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے دباﺅ جاری رکھیں گے.مائیک پومپیو

امریکا نے ایران سے زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تہران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں.واضح رہے کہ ایران پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کے باعث کورونا وائرس کے تدارک میں مالی مشکلات سے دوچار ہے اور تقریباً 35 برس بعد آئی ایم ایف سے قرضہ مانگنے پرمجبور ہوا واشنگٹن کی جانب سے تازہ پابندیاں ایران پر مزید اقتصادی دباﺅبڑھانے کے لیے ہیں. امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران زیر حراست چند امریکیوں کو چھوڑنے پر غور کررہا ہے انہوں نے کہا کہ امریکا، تہران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے مسلسل دباﺅ جاری رکھے گا.

امریکا کے صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے 2015 کو منسوخ کردیا تھا جس کا مقصد خطے میں ایران کو اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور میزائل پروگرام سے دستبرداری تھا مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا ایرانی پیٹرو کیمیکلز کی تجارت کرنے والے جنوبی افریقا، ہانگ کانگ اور چین میں قائم 9 اداروں کے ساتھ ساتھ 3 ایرانی افراد کو بلیک لسٹ کر رہا ہے.
سیکرٹری خارجہ نے پابندی کی زد میں آنے والے افراد کا نام نہیں بتایا انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت ایران کی مسلح افواج کی سوشل سیکیورٹی انویسٹمنٹ کمپنی اور اس کے ڈائریکٹر کو غیر منظور شدہ اداروں سے سرمایہ کاری کرنے پر بلیک لسٹ کیا گیا.اس کے علاوہ کامرس ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے لیے مدد فراہم کرنے والے 5 ایرانی جوہری سائنسدان سمیت 18 کمپنیوں پر پابندی عائد کی جو پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگراموں اور روس کے لیے جدید ہتھیار بنانے کے لیے بھی کوشاں تھیں.
امریکی محکمہ کامرس نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران میں ایک کمپنی، چین میں 2 ، پاکستان میں 9، اور متحدہ عرب امارات کی 5 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گیں واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں بھی امریکا نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کردیا تھا.
امریکی محکمہ خزانہ کے سیکرٹری نے وائٹ ہاﺅس میں بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا تھا 8 اعلیٰ عہدیداروں پر پابندی کے ساتھ ایران میں کان کنی اور دھاتوں کی پیداوار کی ایک درجن سے زائد کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے واشنگٹن کی جانب سے ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی، ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف محمد رضا اشتیانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار پر پابندی عائد کی گئیں تھیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں