حکومت کا جنوبی پنجاب صوبے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان 149

حکومت کا جنوبی پنجاب صوبے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان

اسلام آباد: حکومت نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے بل اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ اس کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وفاقی و صوبائی وزرا اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے تحریک انصاف کے منشور کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے رائے لی۔ جنوبی پنجاب کے عوام سے کئے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا اور اس پر دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی کیونکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی یہ سمجھتی رہی ہیں کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ بل پاس کرنے کےلیے اتفاق رائے پیدا کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے سیکریٹریٹ کا فیصلہ ہوا ہے، اس کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے درکار ہوں گے، سیکریٹریٹ کے لیے 13 ہزار 500 اسامیاں درکار ہوں گی، آئندہ ماہ تک ایڈیشنل سیکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب تعینات کئے جائیں گے۔ دونوں افسران بہاولپور اور ملتان میں اپنے دفاتر قائم کریں گے۔ ماضی میں وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب کو فنڈز نہیں ملا کرتے تھے، آبادی کے تناسب سے 35 فیصد فنڈ جنوبی پنجاب کے لیے مختص کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے منشورمیں کئے گئے وعدے کو روڈ میپ دیا ہے، شہبازشریف ماضی میں جنوبی پنجاب کو اس کا حق دینے کی بات کرتے رہے ہیں، پچھلے دور میں (ن) لیگ کے پاس دوتہائی اکثریت تھی لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا،امیدہے جب بل پیش کریں گے تو پیپلزپارٹی اپنے موقف کے مطابق حمایت کرے گی، توقع ہے مسلم لیگ ن کے ارکان بھی اپنی قیادت کو قائل کریں گے۔ چاہتے ہیں کہ منتخب ارکان اور عوام کی رائے کو اہمیت دی جائے، جنوبی پنجاب کے دارالحکومت کا فیصلہ منتخب اسمبلی کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں