پاکستانی معیشت کو کورونا سے4 ارب 95 کروڑ ڈالر نقصان پہنچنے کا خدشہ 71

پاکستانی معیشت کو کورونا سے4 ارب 95 کروڑ ڈالر نقصان پہنچنے کا خدشہ

پاکستان کو زراعت، تجارت، سیاحت اور پبلک سروسز کے شعبوں میں نقصان پہنچ سکتا ہے،چین سے سپلائی لائن متاثر ہونے سے تقریباً ساڑھے9 لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ
پاکستانی معیشت کو کورونا کے باعث ممکنہ طور پر4 ارب 95 کروڑ ڈالر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچنے کے خدشے سے آگاہ کردیا ہے، زراعت، تجارت، سیاحت اور پبلک سروسز میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معیشت کو کورونا وائرس کے باعث اربوں روپے کے نقصان پہنچنے کے خدشے سے آگاہ کردیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو کورونا وائرس کے باعث ممکنہ طور پر 4 ارب95 کروڑ ڈالر نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر ہے۔ اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ پاکستان میں زراعت سیکٹر کو ڈیڑھ ارب ڈالر، تجارت، پبلک سروسز کو ایک ارب 94 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ریسٹورنٹ، مینوفیکچرنگ، تعمیرات سمیت ٹرانسپورٹ اور یوٹیلٹی سروسز بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

کورونا وائرس کے باعث چین سے سپلائی لائن متاثر ہونے سے بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چین سے سپلائی لائن متاثر ہونے سے پاکستان میں تقریباً ساڑھے9 لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے باعث فضائی کمپنیوں کو 63 ارب سے 113 ارب ڈالر تک نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
بین الاقوامی فضائی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کرونا وائرس (کوویڈ 19) نے بین الاقوامی ہوابازی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ۔ دنیا بھر میں پھیلنے والے اس وائرس سے فضائی آمد ورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ایاٹا کے مطابق فروری 2020ء کے دوران کرونا وائرس کے باعث فضائی کمپنیوں کو 29 ارب 30 کروڑ ڈالر کا مجموعی نقصان پہنچا۔ تاہم دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک میں کرونا پھیلنے کے بعد عالمی فضائی سروس مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں