عورت مارچ کی مخالفت کرنے والوں کی سوچ پرانی ہے، بلاول بھٹو 158

عورت مارچ کی مخالفت کرنے والوں کی سوچ پرانی ہے، بلاول بھٹو

ہم کسی کواجازت نہیں دیں گے کہ وہ عورتوں کو سیاست اور احتجاج کرنے کا طریقہ بتائیں، عورت مارچ کی مخالفت کرنےوالوں کو کہتا ہوں آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی، مطالبہ ہے خواتین کو شعبوں میں50 فیصد نمائندگی دی جائے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا خواتین کنونشن سے خطاب
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کو ہرشعبے میں50 فیصد نمائندگی دینے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں عورت مارچ نہیں کرسکتی، لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ پرانی ہے، آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی۔ انہوں نے خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عورتوں کے حقوق کی بات ہوتو بے نظیر کا نام لیا جاتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کو برابری کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ہم نے خواتین کیلئے قوانین بنائے اور جدوجہد بھی کی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا۔ ہم نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون کو وزیراعظم منتخب کیا، پیپلزپارٹی کے دور میں پہلی مسلم خاتون وزیراعظم محترمہ شہید بےنظیر بھٹو بنی، پہلی جج ہمارے دور میں بنیں، لیڈی ہیلتھ ورکر کوہمارے دور میں روزگار دیا گیا۔
اگر تنخواہ میں اضافہ ہوا تو پیپلزپارٹی کے دورمیں ہوا۔ اس ملک کی عورت کو پتا ہے کہ معاشی صورتحال کیا ہے۔ اس ملک کی ہر عورت کو یہ بھی پتا ہے بزرگوں کا علاج کرانا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی جماعت اس ملک کے مستقبل کیلئے کام کرتی ہے تو وہ صرف پیپلزپارٹی ہے۔ اگرترقی ہوئی ہے تو وہ بھی پیپلزپارٹی کے دورمیں ہوئی۔ ہم نے جدوجہد کرکے ان کٹھ پتلیوں اورسلیکٹڈ کو بھگانا ہے۔
پاکستان کی باقی جماعتیں ہی نہیں ہیں کہ عوام کا پیسا غریبوں پر خرچ ہو، اس لیے شروع دن سے ہی اس کیخلاف سازشیں کی گئیں۔ اتنا شاندار پروگرام ہے باقی ممالک نے کاپی کرنا شروع کردیا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ خواتین میاں صاحب کی حکومت ہو، یا عمران خان کی حکومت ہو، کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہم اس پروگرام کی بجائے اس کے ساتھ کوئی اور منصوبہ لے کرآئیں، انہوں نے بس سوچا کہ بے نظیر کی تصویر کو کیسے ہٹانا ہے۔
بلاول بھٹو نے خواتین کو ہرشعبے میں50 فیصد نمائندگی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں عورت مارچ نہیں کرسکتی۔ لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ پرانی ہے۔ آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی۔ ہم عورتوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کسی کواجازت نہیں دیں گے کہ وہ عورتوں کو بتائیں کہ کس طرح سیاست اور احتجاج کرنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ آئین کے تحت عورت کو حقوق دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں