مولانا فضل الرحمان کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری 155

مولانا فضل الرحمان کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری

نقل و حرکت سمیت غیر ضروری سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت
خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت سمیت غیر ضروری سرگرمیاں محدود کردیں. ضلعی پولیس افسر ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے چند روز قبل ایک خط جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ مخالف ایجنسیوں نے مولانا کو ہدف بنانے کا منصوبہ بنایا ہے.پولیس نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ کو اپنی تمام تقاریب، منصوبے، پروگرامز اور نقل و حرکت خفیہ رکھنے کی تجویز دی ہے ‘ڈی پی او نے اپنے خط میں کہا کہ میں آپ کو آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں تاکہ دہشت گردوں سے خدشات کے پیش نظر آپ حفاظتی اقدامات کریں.
مولانا فضل الرحمان اپنی زندگی میں 3 حملوں سے بچ چکے ہیں جن میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خود کش حملہ بھی شامل ہے‘2014 میں کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے میں بال بال بچ گئے تھے خود کش حملہ آور نے ان کی بلٹ پروف گاڑی کو نشانہ بنایا تھا تاہم مولانا فضل الرحمان کو واقعے میں کچھ نہیں ہوا تھا.پولیس نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ کو عبدالخیل میں ان کی رہائش گاہ کے نزدیک سیکیورٹی اہلکاروں کی کو 24 گھنٹے موجودگی یقینی بنانے کا کہا‘نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام (ف) کے ترجمان مولانا عبدالجلیل جان نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی.انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرکے انہیں ڈرانا اور حکمراں جماعت کے خلاف مہم چلانے سے روکنا چاہتی ہے‘انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں پوری سیکیورٹی فراہم کرے.انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ آج پشاور جائیں گے جہاں وہ انضمام شدہ قبائلی اضلاع میں موجودہ صورتحال پر ایک کانفرنس سے خطاب کریں گے جلیل جان نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر مولانا فضل الرحمان کی سیکیورٹی کم کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ ایک جانب حکومت سیکیورٹی الرٹ جاری کرتی ہے اور دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی سیکیورٹی کم کی جاتی ہے.انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود مولانا فضل الرحمان صوبائی حکومت نے انہیں 3 پولیس کانسٹیبلز فراہم کیے ہیں‘خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے سینیئر پولیس افسر سے اس معاملے پر رائے کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں