قومی احتساب بیورو اور قوم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے.بلاول بھٹو 68

قومی احتساب بیورو اور قوم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے.بلاول بھٹو

جمہوریت پرحملے ہورہے ہیں میڈیا معاشی حملوں کا شکار ہے .چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی
پاکستان کے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ میڈیا مالکان شاید ساتھ نہ بھی دیں لیکن ورکنگ جرنلسٹ آج بھی جمہوریت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں وہ آخری دم تک لڑیں گے.لاہورپریس کلب کے پروگرام ”میٹ دی پریس “سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان میں اگر آج جمہوریت موجود ہے تو اس میں صحافیوں کا خون پسینہ شامل ہے ‘انہوں نے کہا کہ آج آزادی صحافت اور جمہوریت پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں مالکان شاید ساتھ نہ بھی دیں لیکن ورکنگ جرنلسٹ آج بھی جمہوریت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں وہ آخری دم تک لڑیں گے لیکن اس نئے پاکستان کو نہیں تسلیم کریں گے جہاں قلم کی آزادی نہ ہو.
انہوں نے کہا کہ جب جنرل ضیاالحق نے ملک پر بدترین آمریت مسلط کی تھی تو بیگم نصرت بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے ساتھ شانہ بشانہ قلم کے مزدور، صحافی اور پریس کلب کے اراکین کھڑے تھے اس لیے آج پیپلز پارٹی کی تیسری نسل آپ کے درمیان موجود ہے.بلاول بھٹو نے کہا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد جب معاشی بحران اور دیگر مسائل اتنے زیادہ نہیں تھے اس قدر شدید نہیں تھا اس وقت پہلا حملہ پریس پر ہوا اور اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا کے واجبات نہیں دیے گئے.بلاول بھٹو نے کہا کہ میڈیا کے واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کو عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہر ادارے سے صحافیوں کو نکالا گیا اس کے بعد جس تیزی کے ساتھ ملک میں سنسر شپ میں اضافہ ہوا اس کے تحت ہونے والی گھٹن صرف سیاسی کارکنان اور اپوزیشن کے لیے نہیں بلکہ صحافیوں، کیمرہ مین، پروڈیوسرز، میڈیا مالکان کے لیے بھی ہے بلکہ بلاگرز اور ٹوئٹر، فیس بک پر پوسٹ کرنے والے بچوں پر بھی ہے.بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں ہر ایک کی اپنی مرضی ہو کہ وہ کیا لکھنا چاہتا ہے اور کیا پوسٹ کرنا چاہتا ہے جہاں تعمیری تنقید برداشت ہو اس کے لیے ہمیں صحافی برادری کے ساتھ کی ضرورت ہے یہ جدوجہد ہم سب کے مفاد میں ہے.انہوں نے کہا کہ جو غیر جمہوری لوگ ہیں اور ہمارے حقوق چھیننا چاہتے ہیں ان کا تعاون 100 فیصد ہے وہ ہر مسئلے پر ایک ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہم شاید کسی وجہ سے وہ اتحاد قائم نہیں کرسکے.انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم پریس کلب کے اراکین، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ایک پلیٹ فارم سے جمہوریت اور جمہوری آزادی کے ایک آواز بلند کرنا چاہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقام عروج پر ہے کوئی پاکستان میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ نواز شریف جیل یا لندن میں کرپشن کی وجہ سے ہے بلکہ وہ عمران خان کے سیاسی انتقام کی وجہ سے ہیں.چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ کیسز اس لیے بن رہے ہیں کہ سیاسی انتقام چل رہا ہے اور جو گھٹن آپ اپنے اداروں میں محسوس کرتے ہیں وہ گھٹن وہ قومی اسمبلی میں چاہتے ہیں کیوں کہ وہ ادارہ ملک کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے.
بلاول بھٹو نے کہا کہ سید خورشید شاہ کے مرحوم بھائی کو نیب کا نوٹس بھیجا گیا یہ ان کے سیاسی انتقام کا لیول ہے‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف سیاسی انتقامی کارروائی کی وجہ سے لندن میں ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت ہے تواس میں صحافیوں کا خون شامل ہے، آج ہرطرف سے جمہوریت پرحملے ہورہے ہیں اور حکومت نے پہلا معاشی حملہ میڈیا پر کیا.
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت سیاسی انتقام عروج پر ہے اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے افراد نشانے پر ہیں، کوئی ماننے کوتیارنہیں کہ نوازشریف جیل یا لندن میں کرپشن کی وجہ سے ہیں، بلکہ وہ سیاسی انتقامی کارروائی کی وجہ سے وہاں ہیں، سیاسی انتقام کی وجہ سے ہی آج تک پیپلزپارٹی کے کئی رہنما جیل میں ہیں.بلاول بھٹو نے قومی احتساب بیورو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کالا قانون ہے جسے ختم کرنا چاہیے، اس سے صرف سیاسی انتقام کا کام لیا جارہاہے، عمران خان نے خود بھی تسلیم کیا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اسی لیے انہوں نے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا.ذوالفقار علی بھٹو کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہنے پر بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گٹر کی باتوں کو گٹر میں پھینک دینا چاہیے ، گٹر وزیرریلوے خود ہمیشہ سلیکٹڈ وزیرہوتا ہے، اتنے حادثات کے بعد ان کا تاحال وزیر کے عہدے رہنا حیران کن ہے، ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریلوے حادثات شیخ رشید دور میں ہوئے، وہ سلیکٹڈ ہے اور ہر سلیکٹڈ حکومت میں آتا ہے اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد یا کوئی اور شخص بھی اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا.چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم نے پارلیمان کے پہلے ہی سیشن میں کہہ دیا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور قوم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، پھر بزنس مین نے آرمی چیف سے کہا کہ نیب اور قوم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور بعد میں یہی بات عمران خان نے بھی تسلیم کی اور آرڈیننس جاری کیا.بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تسلیم کرنے کے بعد یہ نیب اور قوم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اس کے اختیارات لے کر صرف سیاسی انتقام تک محدود کردیا ہے جو آج بھی سیاسی لوگوں کو گرفتار کرسکتا ہے اور بزنس مین اور بیوروکریٹ کے خلاف وہ کائی کارروائی ہی نہیں کرسکتے.انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں نیب کا قانون کالا قانون ہے اور نیب کو بند کرنا چاہیئے اس کے بجائے انصاف کا ایسا نظام ہو جہاں عام آدمی سے لے کر جج بھی ایک ادارے کے سامنے پیش ہو کر انصاف حاصل کرسکے.انہوں نے کہا بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف جو کیسز تھے وہ 100 فیصد کیسز ہم نے عدالتوں میں جیتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ عدالتی فیصلے سننے کے لیے آج وہ خود موجود نہیں ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں