مصر کے سابق صدر حُسنی مبارک انتقال کر گئے 171

مصر کے سابق صدر حُسنی مبارک انتقال کر گئے

مصر پر 30 سال حکومت کرنے والے حسنی مبارک نے 91 برس کی عمر میں انتقال کیا
مصر کے سابق صدر حسنی مبارک انتقال کر گئے۔تفصیلات کے مطابق سابق صدر حسنی مبارک آج انتقال کر گئے ہیں۔سابق صدر سرجری کے بعد اسپتال میں داخل تھے۔وہ فالج کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے۔مصری میڈیا کے مطابق حسنی مبارک نے 91 برس کی عمر میں انتقال کیا ہے۔حسنی مبارک 2011ء میں احتجاجا مستعفی ہو گئے تھے۔
حسنی مبارک نے 30 سال تک مصر پر حکومت کی۔حسنی مبارک پر کرپشن کے بھی الزمات تھے۔ سابق مصری صدر حسنی مبارک کے اہل خانہ کے قریبی ذریعے نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ حسنی مبارک کو اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ان کی سرجری کی گئی تھی۔ذرائع نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ یہ سرجری پرانی ہرنیا کی وجہ سے کی گئی۔ ہرنیا میں خرابی کی وجہ سے حسنی مبارک کو آنتوں میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک المعادی ملٹری اسپتال میں کچھ دن زیرعلاج رہیں گے۔ ان کی صحت بہتر ہونے کی صورت میں انہیں مشرقی قاہرہ میں اپنی رہائش گاہ پر منتقل کردیے جائیں گے تاہم آج ان کا انتقال ہو گیا ہے۔حسنی مبارک کے وکیل فرید ال الدیب نے بتایا تھا کہ ان کے موکل کی سرجری مقامی ڈاکٹروں کی موجودگی کے غیرملکی ڈاکٹروں کی ٹیم نے کی۔
مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے پوتے عمرعلاء مبارک نے کچھ دن قبل پیچیدہ سرجری کے عمل سے گذرنے والے اپنے دادا کی تازہ تصویر شائع کی تھی۔معدے کی سرجری کے بعد حسنی مبارک کی پہلی تصویر تھی جس میں انہیں اپنے پوتے کے ہمراہ دیکھا گیا۔خیال رہے کہ حسنی مبارک عہدے سے معزولی کے 9 سال بعد گذشتہ برس اکتوبر میں منظرعام پر آئے۔ انہیں یوٹیوب پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا جس میں وہ سنہ 1973ء کی جنگ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
اس سے قبل وہ دسمبر 2018ء کو فوجی داری عدالت میں پیشی پردیکھے گئے تھے۔91 سالہ حسنی مبارک 1928 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نیسنہ 1981ء سے 2011ء تک مصر میں 30 سال ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہے۔ انہیں سنہ 2011ء کو ملک میں اٹھنے والی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں