احسن اقبال کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی 171

احسن اقبال کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی

آپ کو غیر ضروری گرفتار نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج احسن اقبال کی ضمانت منظور کی ہے۔کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس لبنی پرویز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ احسن اقبال کا پاسپورٹ نیب کی تحویل میں رہے گا۔
احسن اقبال کو ضمانت ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض ملی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو غیر ضروری گرفتار نہیں کر سکتے۔ نیب راولپنڈ ی نے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں گرفتار کیا تھا۔احسن اقبال نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو آج پیش ہوئے تھے۔
جہاں پر سوالات کے غیرتسلی بخش جوابات دینے پر نیب ٹیم نے ان کو گرفتار کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے بعد اب احسن اقبال حکومت کیخلاف سیاسی بیان بازی کرنے میں متحرک تھے جس کے بعد ان کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ احسن اقبال جوڈیشنل ریمانڈ پر اس وقت اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ انھوں نے اپنے وکیل طارق جہانگیری کے ذریعے ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری دائر کر رکھی تھی۔ احسن اقبال کے وکیل کی جانب سے پیش کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ احسن اقبال پر مالیاتی کرپشن کا کوئی الزام نہیں جبکہ ابھی تک نیب کی جانب سے کوئی ریفرنس بھی دائر نہیں کیا گیا درخواست کے مطابق احسن اقبال نے کبھی نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار نہیں کیا لیکن 23 دسمبر کو شامل تفتیش ہونے پر گرفتار کرلیا گیا.درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان پر الزام ہے کہ نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس صوبائی معاملہ تھا مگر وفاق کے فنڈز سے بنایا گیادرخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون اور ساتھ ہی چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے. احسن اقبال کی درخواست میں کہا گیا کہ منصوبے کی تمام متعلقہ فورمز سے منظوری لی گئی، صوبائی دائرہ کار میں آنے والے پراجیکٹ کو وفاق کی طرف سے فنڈنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں نیب کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات غلط، بے بنیاد اور جھوٹے ہیں. درخواست میں کہا گیا کہ انہیں مسلم لیگ (ن) کا سیکرٹری جنرل ہونے کے باعث سیاسی انتقام کے طور پر گرفتار کیا گیا، لہٰذا کیس کا ٹرائل مکمل ہونے تک ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں