زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانے کی منظوری 162

زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانے کی منظوری

اس بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانا اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی ہو گی، سینیٹر قرت العین مری
قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانے کی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد پورے ملک میں اس کے تحت کام کیا جائے گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرت العین مری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ زینب بل الرٹ کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلانے کا مطلب اٹھارویں تریم کی خلاف ورزی ہو گی۔
یاد رہے کہ جنوری 2020 میں وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر زینب الرٹ بل کی منظوری دی تھی جس پر ابتدائی طور پر صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کام ہو رہا تھا۔ لیکن اب قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اس کا دائرہ کار پورے ،ملک تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد یہ قانون پورے ملک میں لاگو ہو گا ۔
زینب الرٹ بل پاکستان میں بڑھتے ہوئے بچوں سے زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لئے بنایا گیا تھا۔

اس بل کا نام ننھی زینب کے نام سے منسوب ہے جسے دو سال قبل قصور میں درندگی کا نشانہ بنا کر مار دیا گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب پورا ملک ایک پیج پر آگیا تھا۔زینب الرٹ بل کے مطابق ایل ہیلپ لائن بنائی جائے گی جس پر بچوں کی گمشدگی کے حوالے سے اطلاع دی جائے گی اور فوری طور پر کارروآئی کا آغاز کیا جائے گا۔منظور کردہ بل کے مطابق بچوں سے زیادتی کرنے والے شخص کو عمر قید یا پھر 10 سے 14 سال کی قید کی سزا دی جائے گی۔
اس کے علاوہ ملزم کو 10 لاکھ جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔بل کے مطابق بچوں کی گمشدگی کا فیصلہ 3 ماہ کے اندر اندر ہو گا اور فوری کارروآئی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا جائے گا۔ابتدائی طور پر پیش کردہ بل میں ملزم کے لئے سزائے موت اور ایک سے دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوا تھا لیکن بعد میں اس میں ترمیم کرتے ہوئے جرمانے کو 10 لاکھ کر دیا گیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں