تل ابيب: اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو مذہبی فرض کی ادائیگی اور تجارت کے لیے براہ راست سعودی عرب کے سفر کی اجازت دیدی ہے جب کہ اس سے قبل اردن کا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان وزارت خارجہ کی سطح کے ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اسرائیلی شہریوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی اور تجارت کیلیے سعودی عرب جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ سے شہریوں کو کسی دوسرے ملک جیسے اردن کے راستے سعودی عرب جانا پڑتا تھا تاہم اب 90 دن کے لیے براہ راست سعودی عرب جا سکتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کب اور کہاں ہوئے تاہم گزشتہ چند ماہ سے خلیجی ممالک اور اسرائیل کے درمیان قربتیں کم ہوئی ہیں۔ نیتن یاہو عمان کا دورہ بھی کرچکے ہیں جب کہ عرب لیگ کے سربراہ نے بھی پولینڈ میں یہودیوں کے نازیوں کے ہاتھوں قتل عام کی یاد میں منعقد کردہ تقریب میں شرکت کرکے خیرسگالی کا عندیہ دیا تھا۔ 178

اسرائیل کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سفر کی اجازت

تل ابيب: اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو مذہبی فرض کی ادائیگی اور تجارت کے لیے براہ راست سعودی عرب کے سفر کی اجازت دیدی ہے جب کہ اس سے قبل اردن کا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان وزارت خارجہ کی سطح کے ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اسرائیلی شہریوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی اور تجارت کیلیے سعودی عرب جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ سے شہریوں کو کسی دوسرے ملک جیسے اردن کے راستے سعودی عرب جانا پڑتا تھا تاہم اب 90 دن کے لیے براہ راست سعودی عرب جا سکتے ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کب اور کہاں ہوئے تاہم گزشتہ چند ماہ سے خلیجی ممالک اور اسرائیل کے درمیان قربتیں کم ہوئی ہیں۔ نیتن یاہو عمان کا دورہ بھی کرچکے ہیں جب کہ عرب لیگ کے سربراہ نے بھی پولینڈ میں یہودیوں کے نازیوں کے ہاتھوں قتل عام کی یاد میں منعقد کردہ تقریب میں شرکت کرکے خیرسگالی کا عندیہ دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں