بغیر پرچی کے خطاب کرنے پر وزیر اعظم عمران خان عالمی توجہ کا مرکز بن گئے 185

بغیر پرچی کے خطاب کرنے پر وزیر اعظم عمران خان عالمی توجہ کا مرکز بن گئے

پرچی کے بغیر خطاب پرعالمی اقتصادی فورم کے صدر عمران خان کے معترف، اسکرپٹ دیکھے بغیر ملکی نتائج اور عزائم پر مشتمل تقریرکو سراہا
عالمی اقتصادی فورم پر بغیر پرچی کے خطاب کرنے پر وزیر اعظم عالمی توجہ کا مرکز بن گئے۔ پرچی کے بغیر خطاب پرعالمی اقتصادی فورم کے صدر عمران خان کے معترف، اسکرپٹ دیکھے بغیر ملکی نتائج اور عزائم پر مشتمل تقریرکو سراہا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے سلسلے میں اس وقت سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں پر انہوں نے عالمی اقتصادی فورم سے 14 منٹس پر مشتمل خطاب بھی کیا۔
تاہم دلچسپ صورت حال تب بنی جب وزیراعظم کے خطاب کے بعد تقریب کے میزبان اور عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر بورگے نے بغیر اسکرپٹ کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملکی اعداد و شمار پر شاندار تقریر کے عمل کو سراہا اور وزیر اعظم کی تعریف بھی کی۔
ورلڈ اکنامک فارم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ پچپن سے ہی مجھے پاکستان سے پیار ہے، کے پی حکومت سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا، شہروں میں آلودگی خاموش قاتل بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقے بہت خوبصورت ہیں، میں نے بچپن میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر چھٹیاں گزاریں، خواہش رہی جب موقع ملا اپنے ملک کو فلاحی ریاست بناؤں گا، کے پی میں بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور شہر میں گرشتہ برسوں میں 70 فیصد سے زیادہ درخت کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے بدلتی ہوئی عالمی سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، دہشتگردی کے خلاف 70 ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں، وزیر اعظم نے یہ واضح کیا کہ ہم صرف امن کے خواہاں ممالک کے شراکت دار ہوں گے، امن اور سلامتی کے بغیر معاشی استحکام نا گزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے روس کے جانے کے بعد شدت پسند گروپ متحرک ہو گئے، نائن الیون کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سخت فیصلوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کو نظرانداز کیا گیا، نوجوان کو ہنر مند بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، بد قسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات درست نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن آئے گا تو وسط ایشیا میں تجارت ہوگی، خطے میں امن استحکام سے تجارت بڑھے گی اور خوشحالی آئیگی، 2018-19 سیاحت کے حوالے سے بہترین سال ہیں، پاکستان میں مذہبی سیاحت کے بے پناہ مواقعے ہیں، سکیورٹی فورسز کی کوششوں سے دہشتگردی پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے، افغان طالبان اور حکومت بھی مل کر بیٹھ سکتے ہیں، افغانستان مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں، اس کا بس مذاکرات کے ذریعے سے ہی حل نکالا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں