لاہور ہائیکورٹ کا فواد حسن فواد کو رہا کرنے کا حکم 172

لاہور ہائیکورٹ کا فواد حسن فواد کو رہا کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے فواد حسن فواد کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں 2 رکنی بینچ نے فواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست پرسماعت کی۔لاہور ہائیکورٹ نے فواد حسن فواد کی آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں ضمانت منظور کی۔عدالت نے فواد حسن فواد کو ایک کروڑ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
جب کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب کی جانب سے فواد حسن فواد کے خلاف عدالت میں ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے جس کے مطابق فواد حسن فواد پر 4 ارب 56 کروڑ 51 لاکھ 26 ہزار 904 روپے غیر قانونی طور پر اثاثہ جات بنانے کا الزام عائد ہے ۔فواد حسن فواد نیب کے روبرو 3 ارب 47 کروڑ 54،لاکھ 80 ہزار 822روپے کی وضاحت دے سکے۔

فواد حسن فواد نیب کو 1 ارب 8 کروڑ 96 لاکھ 46 ہزار 172 روپے سے متعلق وضاحت نہیں دے سکے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی مدت ملازمت ختم ہو گئی۔فواد حسن فواد کی مدت ملازمت 13 جنوری کو پوری ہوئی۔ انتہائی با اثر اور طاقتور بیورو کریٹ30 برس تک خدمات سر انجام دینے کے بعد پابندِ سلاسل ریٹائر ہو ئے۔فواد حسن فواد کو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کیس میں 5 مئی 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا،عدالت نے بھی فواد حسن فواد کو ضمانت پر رہا نہیں کیا،سرکاری ریکارڈ کے مطابق فواد حسن فواد کی تاریخ پیدائش 14 جنوری 1960 ہے،13 جنوری کو فواد حسن فواد کی عمر 60 برس ہوئی،فواد حسن فواد نے آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے ڈومیسائل پر سول سروس میں شمولیت اختیار کی تھی۔
۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس وقت کے پرنسیپل سیکرٹری اور ملک کے ایک انتہائی طاقتور سمجھے جانے والے بیوروکریٹ فواد حسن فواد 14 جنوری 2020ء کو ریٹائرڈ ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں