مقبوضہ کشمیر، بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا 186

مقبوضہ کشمیر، بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نقل وحرکت ، انٹرنیٹ سمیت بنیادی آزادیوں پر پابندی حکومت کا صوابدیدی اختیار نہیں ہو سکتا ۔ بھارتی سپریم کورٹ
بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ جمہوری نظام میں آزادی اظہار رائے سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ مواصلاتی رابطوں کی بندش پر عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ جائزہ لے۔ نقل وحرکت ، انٹرنیٹ ، بنیادی آزادیوں میں سے ہیں، کسی بھی فرد کی آزادیوں پر پابندی لگانا صوابدیدی اختیار نہیں ہو سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام میں اظہار رائے کی آزادی اہم ہوتی ہے، اظہاررائے کی آزادی کے تحت انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی حقوق میں شامل ہے، اختلاف رائے کو دبانے کیلئے دفعہ 144 کواستعمال نہیں کیا جاسکتا، انٹرنیٹ کو محدود یا معطل کرنے کے احکامات کی عدالتی جانچ ہوگی۔

بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق کانگریس کے رہنماغلام نبی آزاد اور کشمیرٹائمزکی ایگزیکٹو ایڈیٹرانورادھابھاشن ودیگر کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں