نیب آرڈیننس میں کسی کو فائد نہیں پہنچایا گیا، شہزاد اکبر 181

نیب آرڈیننس میں کسی کو فائد نہیں پہنچایا گیا، شہزاد اکبر

کسی کو ٹیکس یا کرپشن کی چھوٹ نہیں دی گئی، ٹیکس کے معاملات اب ایف بی آر دیکھے گا، آرڈیننس پارلیمان میں جائے گا، کوئی بہتری لانا چاہتا ہے تو خوش آمدید کہیں گے۔ معان خصوصی برائے احتساب کی پریس کانفرنس
معان خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس میں کسی کو فائد نہیں پہنچایا گیا، قانون منظور ہونے سے ٹیکس یا کرپشن کی چھوٹ نہیں دی گئی،ٹیکس کے معاملات نیب نہیں ایف بی آر دیکھے گا، کسی کے خلاف تجویز یا ایڈوائس پر ایکشن نہیں ہوگا، بلکہ فائد ثابت کرنا ہوگا، آرڈیننس کو پارلیمان میں ہی جانا ہے، کوئی بہتری لانا چاہتا ہے تو خوش آمدید کہیں گے۔
انہوں نے وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب حکومت سنبھالی تومعیشت برے حالات میں تھی، لیکن ڈیڑھ سال میں معیشت کو آئی سی یو سے نکالا اورترقی کی سمت پر ڈالا۔ انہو ں نے کہا کہ اداروں کو مضبوط کیا جارہا ہے اور اداروں میں اعتماد کی بحالی کی جارہی ہے۔

نتائج سامنے آرہے ہیں اور اداروں کی ساکھ بحال ہورہی ہے۔

پچھلے دس سالوں میں نیب قوانین میں ترامیم بدنیتی پر مبنی تھیں۔نیب ڈرافٹ کو دیکھے بغیر تنقید کی جارہی ہے۔آرڈیننس کو پارلیمان میں ہی جانا ہے۔اگر کوئی بہتری لانا چاہتا ہے تو اس کو خوش آمدید کہیں گے۔اگرکوئی ذاتی مفاد چاہتا ہے تو اس حکومت میں نہیں مل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ قانون پاس ہونے سے ٹیکس چوری میں چھوٹ دی جارہی ہے، ٹیکس کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا ، یہ معاملات ایف بی آر دیکھے گا۔
جو شخص پبلک ہولڈر نہیں ہے اس کا نیب سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ایف آئی اے کو مضبوط کرنے پر کام ہورہا ہے، ایف آئی اے میں بھی اصلاحات لائیں گے، تاکہ ایف آئی اے بھی اپنا فعال کردار ادا کرے۔معاشرے میں کرپشن کے ناسورکو ختم کرنے کیلئے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔جس نے کرپشن کی، کک بیکس لیے اس کو سخت سزا ملنی چاہیے۔لیکن صرف فیصلہ کرنے کی وجہ سے کیس نیب میں آتا تھا تو وہ زیادتی تھی۔
نیب کا کام تحقیقات کرنا ہے اداروں کو ٹھیک کرنا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ بیوروکریسی کو رعایت دی گئی ہے جبکہ اس میں سیاستدان اور بیوروکریٹ دونوں شامل ہیں،قانون میں ضمانت اور ٹرائل کا عمل تبدیل نہیں کیا گیا۔صرف تجویز یا ایڈوائس دینے پر کارروائی نہیں ہوگی جب تک کوئی فائد ثابت نہ ہو۔ مجھے نہیں پتا کہ شہبازشریف کب واپس آئیں گے اور مجھے عدالتوں میں لے کرجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں