لاہورہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کیخلاف درخواست پر اعتراض لگا دیا 197

لاہورہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کیخلاف درخواست پر اعتراض لگا دیا

فوری سماعت نہیں کی جا سکتی، درخواست موسم سرما کے بعد مقرر کی جائے گی
لاہورہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کیخلاف درخواست پر اعتراض لگا دیا۔ تفصیل کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس 2019ء کیخلاف درخواست پر اعتراض لگا دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ آفس کے مطابق درخواست پر فوری سماعت نہیں کی جا سکتی، درخواست موسم سرما کے بعد سماعت کیلئے مقرر کی جائے گی۔ ایڈووکیٹ اشتیاق کی دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس سے کرپشن بڑھے گی جو کہ آرٹیکل 9 ، 19، 25 کی خلاف وزی ہوگی۔
واضح رہے حکومت کی جانب سے آرڈیننس جاری کیا گیا تھا ۔ جس میں صدر مملکت عارف علوی نے آرڈیننس پر باقاعدہ دستخط کر دیے، نیب50 کروڑ سے زائد کی کرپشن پر کارروائی کرسکے گا، ٹیکس، سٹاک ایکسچینج،آئی پی اوز کے معاملات میں دائرہ اختیار ختم، محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کیخلاف بھی ایکشن نہیں ہوگا۔

صدر مملکت عارف علوی کی فوری منظوری کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس نافذ العمل ہوگیا ہے۔

حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس صدر مملکت کو منظوری کیلئے بھجوایا تھا جسے جناب عارف علوی نے دستخط کئے تھے ۔ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کیخلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا، ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی جن کے نقائص سے فائدہ اٹھانے کے شواہد ہوں گے، سرکاری ملازم کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمد نہیں کیا جا سکے گا۔
سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کارروائی ہو سکے گی۔ 3 ماہ میں نیب تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہوگا ۔ تاہم ترمیمی آرڈیننس کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ نیب آرڈیننس بد نیتی پر مبنی ہیں۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ موسم سرما کے بعد سماعت کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں