بھارت میں متنازع قانون 30 ہلاکتیں 205

بھارت میں متنازع قانون، 30 ہلاکتیں

نئی دہلی: بھارت میں متنازع شہریت قانون کیخلاف احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ اور تشدد سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی۔
مختلف مسلمان علاقوں میں پولیس گھروں میں گھس گئی، بچوں اور خواتین پر تشدد، املاک کو نقصان پہنچایا، گاڑیاں توڑ دیں،کانپور میں فائرنگ سے 2نوجوان شہید ہو گئے، انتظامیہ نے کرفیو لگا کر گھروں تک محدود کر دیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تشددکے الزام میں ہزار سے زیادہ نامعلوم طلباء کے خلاف مقدمے درج کرلئے گئے۔کانگرس رہنما پریانکا گاندھی نے اترپردیش پولیس پرگلا پکڑنے اورہاتھا پائی کاالزام عائد کیا ہے، پولیس نے ان کا دعوی غلط قراردے دیا۔ہنگاموں سے ملک میں سیاحوں میں 60 فیصد کمی ہوگئی۔

برطانیہ، روس، اسرائیل، سنگاپور، کینیڈا اور تائیوان نے اپنے شہریوں کووہاں نہ جانے کیلیے خبردارکردیا۔ 2لاکھ مقامی اور غیرملکی سیاحوں نے تاج محل کا دورہ ملتوی یا منسوخ کردیا۔ سنگ مرمر سے بناعجوبہ اترپردیش میں ہے، جہاںپرتشدد واقعات سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔مقامی ہوٹل مالکان بکنگزمنسوخ ہونے سے پریشان ہیں۔مودی سرکار نے مظاہروں کے باعث موبائل فون کمپنیوں کو انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کی ہدایت کی، جس سے روزانہ 82لاکھ ڈالرزنقصان ہو رہا ہے،اب تک 13ارب ڈالرکوچونالگ چکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں