پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں سورج کو گرہن لگ گیا 215

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں سورج کو گرہن لگ گیا

کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سورج گرہن کا آغازہوگیا۔ کراچی میں سورج گرہن کے موقع پر شہر کی مساجد میں نماز کسوف کا اہتمام کیا گیا ہے، نماز کسوف کے دوران استغفار اورخصوصی دعائیں بھی کی جارہی ہیں۔

ملک بھرکی طرح راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی سورج گرہن کا آغاز ہوچکا ہے، اسلام آباد میں سورج کو 49 فیصد گرہن لگے گا۔ سورج گرہن 10 بج کر43 منٹ تک دیکھا جاسکے گا ۔ اسلام آباد میں دھند کی وجہ سے شہری سورج گرہن کو دیکھ نہیں سکتے۔ اسلام آباد کے اکثرعلاقے شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں دھند کی وجہ سے حدنگاہ متاثر ہورہی ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ پڈعیدن اور گردونواح میں بھی سورج گرہن کا اغاز ہوگیا جو ایک بجے تک جاری رہے گا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: 26 دسمبر کو ہونیوالے سورج گرہن کے حوالے سے ماہرنجوم کی اہم پیشگوئیاں
آج ہونے والا سورج گرہن 2019 کا آخری سورج گرہن ہے۔ 20 سال بعد ہونے والے سورج گرہن کا دورانیہ 2 گھنٹے 37 منٹ پر محیط ہوگا، سورج کا 90 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ دن کا کچھ دورانیہ رات میں تبدیل ہوجائے گا۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں گوادر، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، گلگت میں لگ بھگ 20 سال بعدآج مکمل سورج گرہن ہوگا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آخری باریہ عمل 11 اگست سن 1999 کو ہوا تھا جب سہ پہر کے بعد کراچی میں مکمل سورج گرہن ہوا جس کے دوران ڈھلتا دن بڑی حد تک رات کے گھپ اندھیرے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ماضی کے سورج گرہن میں سورج کا 100 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پورے20 سال بعد 26 دسمبر کوصبح 7 بج کر34 منٹ پر سورج چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوگا۔ 8بج کر46 منٹ پرمکمل سورج گرہن ہوگا، جبکہ اختتام 10بج کر10منٹ پرہوگا، سورج گرہن کا مجموعی دورانیہ 2 گھنٹے 37 منٹ پر محیط ہوسکتا ہے۔ سورج گرہن کے دوران دن کا کچھ حصہ رات کی شکل اختیار کرلے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سورج گرہن جنوبی پاکستان خاص طورپر ساحلی علاقوں گوادر میں سب سے زیادہ ہوگا۔ گوادر میں 0.82 اور کراچی میں 0.77 فیصد شدت رہے گی جبکہ کوئٹہ میں 0.64، لاہور میں 0.52، پشاور0.50، اسلام آباد 0.49، مطفرآباد 0.47 جبکہ گلگت میں 0.43 رہے گی۔

پاکستان بھر کے علاوہ مشرقی یورپ، شمال مغربی آسٹریلیا، مشرقی افریقا، پیسفیک اوربحرہند میں بھی نمایاں طورپر سورج گرہن دکھائی دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی جانب براہ راست نہ دیکھیں، سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں کیونکہ کھلے آسمان کے نیچے سورج کی تابکار شعاعیں خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سن گلاسز پہن کر سورج کے تابکاری اثرات سے بچنا ممکن نہیں ہے، لہٰذاسن گلاسز پہن کر سورج کو براہ راست دیکھنا کسی طورٹھیک عمل نہیں ہے۔ قرآن وسنت کے مطابق مسلمانوں پر لازم ہے کہ سورج گرہن کے دوران ﷲ پاک سے گناہوں کی بخشش طلب کریں اور نماز کسوف اداکریں، یہ وہ نماز ہے جو ہمارے پیارے نبی پاکﷺ سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں