لوٹی ہوئے رقم کی واپسی شروع، 153 ارب روپے قومی خزانے میں جمع 204

لوٹی ہوئے رقم کی واپسی شروع، 153 ارب روپے قومی خزانے میں جمع

لوٹی ہوئے رقم کی واپسی شروع، 153 ارب روپے قومی خزانے میں جمع
گذشتہ 27 ماہ کے دوران بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 153 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے گئے ہیں۔ چئیرمین نیب کا دعویٰ
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چئیرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ گذشتہ 27 ماہ کے دوران بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 153 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب کا کہنا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے فیس نہیں کیس دیکھنے اور احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیراہے، نیب نے ایک منزل کا تعین کیاہے جس کا مقصد بدعنوان عناصر ،اشتہاری اور مفرور ملزمان کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا اور ملک و قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی ہے۔
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ نیب نے گذشتہ 27 ماہ کے دوران بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 153 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جبکہ630ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ نیب نے بد عنوانی کے تقریبا 600ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں احتساب عدالتوں میں نیب مقدمات میں سزا دلوانے کی شرح 70 فیصد ہے جو کسی بھی انسداد بدعنوانی کے ادارے میں بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے اس وقت 25 احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1261 ریفرنس زیر سماعت ہیں، جن کی مالیت تقریباً 943 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ ہمارا تعلق صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ نیب کے افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں جن میں پلڈاٹ، مشال پاکستان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور ورلڈ اکنامک فورم جیسے اداروں نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ گیلانی اور گیلپ سروے کے مطابق ملک کے 59 فیصد افراد نے نیب پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس سے نیب کے افسران کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں اور وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اپنی کاوشوں کو دگنا کر کے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں