پنجاب حکومت نے میاں نواز شریف کی طبی رپورٹس مسترد کر دیں 208

حکومت کا نواز شریف کو ضمانت میں توسیع دیئے جانے کا امکان

حکومت کا نواز شریف کو ضمانت میں توسیع دیئے جانے کا امکان
سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت میں 40 دن سے 2 ماہ تک کی مزید توسیع دی جا سکتی ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔نواز شریف کی درخواست اور میڈیکل رپورٹس محکمہ داخلہ پنجاب کو موصول ہو چکی ہیں۔حکومت کی جانب سے نواز شریف کو ضمانت میں توسیع دیئے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کی تصدیق کروائی جائے گی۔
تصدیق کے بعد نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی مدت پر غور کیا جائے گا۔نواز شریف کی ضمانت میں 40 دن سے دو ماہ تک کی مزید توسیع دئیے جانے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کیلئے ضمانت منظور تے ہوئے سابق وزیر اعظم کو ضمانت کے عوض 20لاکھ ر وپے کے ضمانی مچلکے جمع کرانے حکم دیا تھا۔
دوران سماعت سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کی طبیعت کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا ۔ڈاکٹر عدنان نے بتایاکہ نواز شریف کی حالت بہت تشویشناک ہے، نواز شریف کے پلیٹ لٹس بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ بڑھ نہیں رہے، نواز شریف کو ہارٹ سٹوک بھی ہو چکا ہے، نواز شریف کی جان کو ابھی تک شدید خطرہ ہے، ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ نواز شریف کے پلیٹ لٹس کیوں کم ہوئے۔
ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ جب تک بیماری کا پتہ نہ چل جائے علاج نہیں ہو سکتا، ہوموگلوبن سے نواز شریف کا بلڈپریشر اور بلڈشوگر بڑھ گیا۔ڈاکٹر عدنان نے کہاکہ 20 سال سے نواز شریف کا ڈاکٹر ہوں لیکن ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں ہوئی، نواز شریف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وکیل نوازشریف خواجہ حارث نے کہاکہ 24 اور 25 اکتوبر کی درمیانی رات نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہوا، رپورٹ میں کہا گیا کہ سینے میں درد ہوا لیکن وہ ہارٹ اٹیک تھا، نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھتے ہیں تو ہارٹ اٹیک کا چانس بھی بڑھ جاتا ہے،نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں