ترکی صدر طیب اردگان نے فوج لیبیا میں بھیجنے کا اعلان کر دیا 269

ترکی صدر طیب اردگان نے فوج لیبیا میں بھیجنے کا اعلان کر دیا

فوج کے لیے لیبیا نے درخواست کی ہے،ترک فوج کی تعیناتی کے حوالے سے بل اگلے ماہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ترک صدر کی گفتگو
ترکی صدر طیب اردگان نے اپنی فوج لیبیا میں بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ترکی کے صدر طیب اردگان نے فوج لیبیا میں بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ فوج کے لیے لیبیا نے درخواست کی ہے۔ترک فوج کی تعیناتی کے حوالے سے بل اگلے ماہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
گذشتہ ہفتے ترکی کے صدر رجب طیب ایردگان نے کہا تھا کہ ان کا ملک لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی فوجی مدد کا پابند ہے۔ ضرورت پڑی تو لیبیا کی مزید فوجی مدد کریں گے۔ ایک بیان میں ترک صدر نے کہا کہ انقرہ اور طرابلس کے درمیان رابطہ اور تعاون آئندہ بھی نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طرابلس کی مدد کے لیے فضائی، بری اور بحری کمک فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائیگی۔
ترک صدر نے کہا کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کیساتھ طے پائے دفاعی معاہدے پر کسی دبائو میں نہیں آئیں گے۔ یونان اور اس کے بعض اتحادی ممالک چاہتے ہیں کہ ترکی سمندر میں کوئی کارروائی کرنے کے قابل نہ رہے۔ کسی دوسرے ملک کی طرح ہمارے بھی حقوق ہیں اور ہم مشرق وسطی میں اپنے حقوق کا دفاع کریں گے۔جب کہ ترکی کے ایوان صدر کے ترجمان نیکل نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک ایسے مسودہ قانون پر غور کیا جا رہا ہے جس کی منظوری کے بعد لیبیا میں ترک فوج تعینات کی جا سکے گی۔
ترکی، لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ان کی حکومت کو ضروری مدد فراہم کرتا رہے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق حال ہی میں ترک پارلیمنٹ نے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ سلامتی اور فوجی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدہ گذشتہ ماہ ترک صدر رجب طیب اردگان اور لیبیا کے متنازع وزیراعظم فائز السراج کے درمیان طے پایا تھا۔
ترجمان نیکل نے کہاکہ وہ سراج حکومت کی طرف سے مدد کی درخواست کی گئی تو ترکی طرابلس کی مدد کے لیے اپنے فوجیوں کو لیبیا بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعد لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر اور ترکی کے درمیان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ترک صدر کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عرب اور یورپی ممالک نے سلامتی کونسل میں ترکی کی طرف سے لیبیا کی وفاق حکومت کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لیے صلاح مشورہ شروع کیا ہے۔ عرب ممالک اور یورپی یونین طیب اردگان اور فائز السراج حکومت کے درمیان دفاعی ڈیل پرعمل درآمد روکنے کے لیے بھی کوشش کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں