ابرار الحق چئیرمین ہلال احمر کے عہدے پر بحال 208

ابرار الحق چئیرمین ہلال احمر کے عہدے پر بحال اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابرار الحق کی بطور چئیرمین ہلال احمر تعیناتی کے خلاف درخواست خارج کر دی

ابرار الحق چئیرمین ہلال احمر کے عہدے پر بحال
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابرار الحق کی بطور چئیرمین ہلال احمر تعیناتی کے خلاف درخواست خارج کر دی
ابرار الحق کی بطور چئیرمین ہلال احمر تعیناتی کے خلاف درخواست خارج کر دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سعید الہیٰ نے ابرار الحق کی چئیرمین ہلالِ احمر تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چینلج کر رکھی تھی۔اسلام آبا د ہائیکورٹ نے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
وفاق کی جانب سے ایڈشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ چئیرمین تعیناتی کے رولز میں ترمیم کی گئی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ تو انتظامی امور ہیں جو وزیراعظم نے چلانے ہوتے ہیں۔عدالت نے ابرار الحق کہ تعنیات کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابرار الحق کو چئیرمین ہلال احمر کے عہدے پر بحال کر دیا۔
گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ نا کہیں کہ صدر پاکستان کے آفس سے کچھ بھی احکامات پاس کیا جا سکتا ہے۔ صدر پاکستان کا آفس قابل احترام ہے ۔صدر پاکستان کا آفس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انھوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دوران سماعت مکالمہ کیا کہ جو آپ دلائل دے رہے ہیں، وہ آپ کے خلاف ہیں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا مینیجنگ باڈی نے رولز بنائے ہیں جس کے مطابق چئیرمین کا تقرر تین سال کے لیے ہو گا ۔
جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ چئیرمین کو ہٹانے کا طریقہ کہاں لکھا ہے۔ جس پر وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ رولز میں چئیرمین کو ہٹانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ اس موقع پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا قانون میں تو مینیجنگ باڈی نے رولز بنائے کیسے اس کو عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ رول دس اے کے تحت چئیرمین کو برطرف تو نہیں کیا جاسکتا اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو کے پاس اختیار ہے کہ کسی وقت بھی چئیرمین کو برطرف کردیچئیرمین کی برطرفی کا نوٹیفکیشن چیلنج نہیں کیا گیا۔
چئیرمین کے خلاف کوئی الزام نہیں اس لیے ان کو کوئی نوٹس نہیں کیا گیا عدالت نے سماعت 26 دسمبر تک کے لئے ملتوی کیا تھا۔یال رہے کہ ڈاکٹر سعید الٰہی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں 2014 میں چیئرمین پی آر سی ایس تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں 2017 میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تھی، تاہم گزشتہ ہفتے صدر مملکت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا. اس بارے میں پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے بتایا تھا کہ سعید الٰہی کو حکومت پر کھلے عام تنقید کرنے پر ہٹایا گیا جبکہ ان پر اپنی دونوں مدت کے دوران کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات تھے تاہم ڈاکٹر سعید الٰہی نے اپنی برطرفی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی مدت ملازمت پوری نہیں کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا بعد ازاں سابق چیئرمین نے مفادات کے ٹکراو اور اقربا پروری کی بنیاد پر ابرار الحق کی تعیناتی کو 16 نومبر کو عدالت میں چیلنج کردیا تھا. ساتھ ہی انہوں نے موقف اپنایا تھا کہ ان کی مدت پوری ہونے سے قبل نئے چیئرمین کی تعیناتی غیر قانونی ہے کیونکہ ان کی مدت ملازمت مارچ 2020 میں مکمل ہونی تھی انہوں نے درخواست میں کہا تھا کہ ابرار الحق کا تقرر ادارے کے مفادات سے ٹکراﺅ بھی ہے کیونکہ گلوکار سے سیاست دان بننے والے ابرار الحق نہ صرف ایک ہسپتال بلکہ ایک نجی کالج چلا رہے بلکہ وہ اپنی غیر سرکاری تنظیم سہارا ٹرسٹ کے لیے عطیات بھی جمع کرتے ہیں. درخواست میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ابرار الحق کے تقرر کا نوٹیفکیشن کالعدم اور غیرقانونی قرار دیا جائے عدالت میں دائر درخواست ڈاکٹر سعید الٰہی نے کہا تھا کہ پی آر سی ایس کے قواعد کے تحت انتظامی کے پاس تعیناتی کا اختیار تھا جبکہ پی آر سی ایس کے چیئرمین کو مدت ملازمت سے پہلے صرف اسی صورت میں ہٹایا جاسکتا تھا کہ اگر وہ خود صدر مملکت کو استعفیٰ پیش کریں. انہوں نے مزید کہا کہ ان کی برطرفی آئین میں فراہم کیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے سابق چیئرمین کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست پر عدالت میں سماعت ہوئی تو اٹارنی جنرل انور منصور خان بغیر نوٹس کے ہی پیش ہوئے اور کہا کہ ڈاکٹر سعید الٰہی نے اپنی برطرفی کو چیلنج ہی نہیں کیا اٹارنی جنرل نے کہا کہ برطرفی اور نئی تعیناتی کے 2 علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے، تاہم یہ حیران کن ہے کہ انہیں صرف نئے تقرر کا نوٹیفکیشن ملا لیکن اپنی برطرفی کا نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں