آرمی چیف کی مدت ملازمت؛ حکومت نےسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی 202

آرمی چیف کی مدت ملازمت؛ حکومت نےسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی کیس کو اِن کی کیمرہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ درخواست میں استدع

آرمی چیف کی مدت ملازمت؛ حکومت نےسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی
کیس کو اِن کی کیمرہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ درخواست میں استدع
آرمی چیف کی مدت ملازمت کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کو ان کیمرہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
نظرثانی اپیل میں لارجز بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی ہے۔جب کہ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔خیال رہے کہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا ابتدائی فیصلہ 28نومبر کو سنایا تھا ۔
جس کے بعد سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ 16 دسمبر کوجاری کیا تھا۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تفصیلی فیصلہ 39 صفحات پر مشتمل تھا۔سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک صفحے کا اضافی نوٹ تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آرمی چیف کی تنخواہ اور مراعات کا تعین صدر مملکت آرٹیکل 243کے تحت کرتا ہے۔ منتخب نمائندے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کریں۔معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی۔کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی کا تھا۔منتخب نمائندے اس حوالے سے قانون سازی کریں، قانون کی عدم موجودگی میں راویت کو غیر یقینی دور کرنے کے لیے لاگو کیا جا سکتا ہے۔ آئین کے تناظر میں پارلیمان قانون سازی کے ذریعے معاملہ حل کریں۔ ہماری حکومت قوانین کی ہے یا افراد کی۔ ہمارے سامنے مقدمہ تھا کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع کی جا سکتی ہے۔
آرمی چیف کی تقرری، ریٹائرمنٹ اور توسیع کی تاریخ موجود ہے۔پہلی بار یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں آیا۔سماعت کے پہلے روز درخواست گزار عداالت میں پیش نہیں ہوا۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دی گئی۔ قانون کے تحت جنرل کے رینک کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر یا مدت ملازمت نہیں دی گئی۔درخواست گزار اگلی سماعت میں عدالت میں حاضر ہوا۔ادارہ جاتی پریکٹس کے تحت ایک جنرل 3 سال کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہوتا ہے۔ادارہ جاتی پریکٹس قانون کا موثر متبادل نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دی،وزیراعظم کو ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں