ن لیگ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت کو درخواست جمع کروا دی 188

ن لیگ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت کو درخواست جمع کروا دی

ن لیگ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت کو درخواست جمع کروا دی
نواز شریف کا بیرون ملک علاج جاری ہے، بیماری کے باعث وطن واپس نہیں آ سکتے۔ درخواست میں موقف
ن لیگ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت کو درخواست جمع کروا دی ۔تفصیلات کے مطابق : اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی۔عدالت نے کہا ہے کہ 8 ہفتوں تک ملزم کی طبعیت خراب رہی تو صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔آٹھ ہفتوں بعد حکومت سے رابطہ نہ کیا گیا تو جیل جانا ہو گا۔
سزا معطلی کا دورانیہ ختم ہونے پر ایگزیکٹو اتھارٹی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کو آٹھ ہفتوں بعد مزید ضمانت کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کرنا ہوگا۔آج نواز شریف کی ضمانت اور بیرون ملک قیام کی معیاد کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔مسلم لیگ ن نے چیف سیکرٹری پنجاب کو درخواست جمع کروا دی ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نواز شریف کا بیرون ملک علاج جاری ہے۔

نواز شریف بیماری کے باعث وطن واپس نہیں آ سکتے۔نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس بھی درخواست کے ساتھ لگائی گئی تھیں۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کیلئے ضمانت منظور تے ہوئے سابق وزیر اعظم کو ضمانت کے عوض 20لاکھ ر وپے کے ضمانی مچلکے جمع کرانے حکم دیا تھا۔
دور ان سماعت سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کی طبیعت کے بارے میں عدالت کو اگاہ کیا ۔ڈاکٹر عدنان نے بتایاکہ نواز شریف کی حالت بہت تشویشناک ہے، نواز شریف کے پلیٹ لٹس بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ بڑھ نہیں رہے، نواز شریف کو ہارٹ سٹوک بھی ہو چکا ہے، نواز شریف کی جان کو ابھی تک شدید خطرہ ہے، ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ نواز شریف کے پلیٹ لٹس کیوں کم ہوئے۔
ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ جب تک بیماری کا پتہ نہ چل جائے علاج نہیں ہو سکتا، ہومیوگلوبن سے نواز شریف کا بلڈپریشر اور بلڈشوگر بڑھ گیا۔ڈاکٹر عدنان نے کہاکہ 20 سال سے نواز شریف کا ڈاکٹر ہوں لیکن ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں ہوئی، نواز شریف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وکیل نوازشریف خواجہ حارث نے کہاکہ 24 اور 25 اکتوبر کی درمیانی رات نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہوا، رپورٹ میں کہا گیا کہ سینے میں درد ہوا لیکن وہ ہارٹ اٹیک تھا، نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھتے ہیں تو ہارٹ اٹیک کا چانس بھی بڑھ جاتا ہے،نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں