مجھے سزا قبول ہے 212

مجھے سزا قبول ہے

اگر مجھے پرویز مشرف کی سزا کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔ احسن اقبال کی احتساب عدالت آمد پر میڈیا سے گفتگو
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو آج جسمانی ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت پیش کیا جائے گا۔احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس سٹی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کا الزام ہیں۔احسن اقبال کو فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا گیا ہے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اگر مجھے پرویز مشرف کی سزا کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔
نارووال کے عوام سے وعدہ پورا کرنے پر گرفتار کیا ہے تو مجھے سزا اقبول ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف او ن لیگ کا وفادار ہوں اس لیے گرفتار کیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔واضح رہے گذشتہ روز نیب راولپنڈ ی نے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں گرفتار کیا، احسن اقبال کو نیب راولپنڈی نے انکوائری کیلئے طلب کیا تھا۔
احسن اقبال نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو آج پیش ہوئے تھے۔ جہاں پر سوالات کے غیرتسلی بخش جوابات دینے پر نیب ٹیم نے ان کو گرفتار کرلیا ۔ نیب نے احسن اقبال کی گرفتاری سے متعلق اسپیکرقومی اسمبلی کو بھی خط لکھ دیا۔ جس میں رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کی گرفتار ی سے اسپیکر کو آگاہ کیا گیا ۔اعلامیہ نیب میں بتایا گیا کہ احسن اقبال کا میڈیکل معائنہ کیا جائے گا، احسن اقبال کو آج احتساب عدالت راولپنڈی میں پیش کیا جائے گا۔
جہاں احسن اقبال کا عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران نیازی حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہوچکی ہے،جس منصوبے پر شاباش ملنی چاہیے تھی اس میں گرفتار کرلیا گیا، سی پیک اور پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے والے کی گرفتاری افسوسناک ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ سے گھبرا کر سچ بولنے سے باز نہیں آئیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں