ملائشیا سمٹ میں شریک ممالک عربوں کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ،عرب امارات 199

ملائشیا سمٹ میں شریک ممالک عربوں کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ،عرب امارات

ملائشیا سمٹ میں شریک ممالک عربوں کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ،عرب امارات
ملائشیا سمٹ مسلم دنیا کو درپیش مسائل پر غور کے لیے ایک غلط فورم تھا۔ اماراتی وزیرخارجہ کی سعودی عرب کے موقف کی حمایت
متحدہ عرب امارات کے وزیر ملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے سعودی عرب کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ ملائشیا سمٹ مسلم دنیا کو درپیش مسائل پر غور کے لیے ایک غلط فورم تھا۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے کوالالمپور سمٹ میں اپنی عدم شرکت کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے ایک ارب 75کروڑ مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک غلط فورم ہے۔
ایسے مسائل پر اسلامی تعاون تنظیم کے فورم ہی پر بات چیت کی جانا چاہئیے۔سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کو ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کی تھی۔اور گفتگو میں مملکت کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ ایسے ایشوز پر صرف او آئی سی کے پلیٹ فارم ہی سے بات چیت کی جانا چائیے کیونکہ او آئی سی نے اکثر مسلم ممالک کے اجتماعی مسائل و امور پر اجتماعی آواز کے طور پر کام کیا ہے۔
اسی حوالے سے متحدہ عرب امارات کے وزیر ملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے سعودی عرب کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ ملائشیا سمٹ مسلم دنیا کو درپیش مسائل پر غور کے لیے ایک غلط فورم تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق انور قرقاش نے ٹویٹر پرلکھا کہ کیا یہ اسلامی دنیا کے لیے ممکن ہے کہ وہ عربوں کی عدم موجودگی میں بلند ہوسکیں اس کا واضح جواب ہے، نہیں، کیونکہ تقسیم ،علیحدگی اور تعصبات کبھی حل ثابت ہوئے ہیں اور نہ ثابت ہوں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سعودی سفارت خانے نے سعودی عرب کے پاکستان کو کولالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے ہر مجبور کرنے کی تردید کر دی ۔ ہفتہ کو ایک بیان میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفارت خانہ نے میڈیا پر چلنے والی اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا ۔خبر میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبور کیا ہے اور پاکستان کو دھمکی دی ہے۔
سعودی سفارتخانے نے کہاکہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہو۔ سعودی سفارت خانہ نے کہا کہ یہ گہرے تزویراتی تعلقات ہیں جو اعتماد، افہام وتفہیم اور باہمی احترام پر قائم ہیں، سعودی عرب سفارتخانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بیشتر علاقائی، عالمی اور بطور خاص امت مسلمہ کے معاملات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔سعودی سفارت خانہ نے کہاکہ سعودی عرب ہمیشہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ سعودی سفارت خانہ نے کہاکہ ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے تاکہ پاکستان ایک کامیاب اور مستحکم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں