خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ جاری کر دیا 194

پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش لائی جائے اور 3 دن کے لیے ڈی چوک پر لٹکائی جائے

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ جاری کر دیا
پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش لائی جائے اور 3 دن کے لیے ڈی چوک پر لٹکائی جائے ۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کا حکم
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔پرویز مشرف کے وکیل تفصیلی فیصلہ کی کاپی لے کر عدالت سے روانہ ہو گئے ہیں۔وزارت داخلہ کے نمائندوں کو بھی فیصلے کی کاپی فراہم کر دی گئی ہے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ دو ججز پرویز مشرف کو سزا دینے کے حق میں ہیں جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے اس سے اختلاف کیا۔
جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا حکم دیا۔ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا۔جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو بری کر دیا۔جسٹس نذا اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے جس میں پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سناتی ہے۔جمع کروائے گئے دستاویزات واضح ہیں کہ ملزم نے جرم کیا۔ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع دیا گیا۔پرویز مشرف کو 19جون 2016 کو مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزا دی جاتی ہے۔تفصیلی فیصلے میں ۔
جسٹس وقار احمد سیٹھ کہا گیا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے۔ جب کہ جسٹس شاہد کریم نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔جب کہ پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔کیس کا ٹرائل پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں کیا گیا۔

پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سے متعلق تازہ ترین معلومات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں