انسان کو پھانسی دی جاتی ہے لاش کو نہیں 189

انسان کو پھانسی دی جاتی ہے لاش کو نہیں

انسان کو پھانسی دی جاتی ہے لاش کو نہیں
اس قسم کے آرڈ لکھنے پر جج کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیے،سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئیے۔ اعتزاز احسن کا خصوصی عدالت کے سنگین غداری کیس میں تفصیلی فیصلے پر ردِ عمل
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کہا گیا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے اور تین دن کے لیے لٹکایا جائے۔اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے سینئیر وکیل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انسان کو پھانسی دی جاتی ہے لاش کو نہیں۔
تفصیلی فیصلے میں غلط لکھا گیا ہے ایسا ممکن نہیں۔اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ اس قسم کے آرڈ لکھنے پر جج کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیے۔خصوصی عدالت کے فیصلے پر سپریم کورٹ کو سوموٹو نوٹس لینا چائیے۔خصوص عدالت آئین کے تحت نہیں،آرڈیینسس کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ دو ججز پرویز مشرف کو سزا دینے کے حق میں ہیں جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے اس سے اختلاف کیا۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا حکم دیا۔ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا۔جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو بری کر دیا۔جسٹس نذا اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے جس میں پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سناتی ہے۔جمع کروائے گئے دستاویزات واضح ہیں کہ ملزم نے جرم کیا۔ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع دیا گیا۔پرویز مشرف کو 19جون 2016 کو مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزا دی جاتی ہے۔تفصیلی فیصلے میں ۔
جسٹس وقار احمد سیٹھ کہا گیا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے۔ جب کہ جسٹس شاہد کریم نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔
مفرور کرانے والوں کے کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے۔آئین عوام اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔استغاثہ کے شواہد کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے۔غداری کیس 2013ء میں شروع ہو کر 6 سال بعد ختم ہوا۔پرویز مشرف کو ان کے حق سے بھی زیادہ شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا۔مقدمہ 2019ء تک چلتا رہا۔اس کیس کے حقائق دستاویزی ہیں۔جب کہ پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔کیس کا ٹرائل پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں