مودی سرکار مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ”اسرائیلی ماڈل“پر عمل پیرا آرایس ایس دنیا کی سب سے بڑی عسکری تنظیم ہے مگر آج تک اقوام متحدہ یا مغربی دنیا نے اس پر پابندیاں عائد نہیں کیں 199

مودی سرکار مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ”اسرائیلی ماڈل“پر عمل پیرا آرایس ایس دنیا کی سب سے بڑی عسکری تنظیم ہے مگر آج تک اقوام متحدہ یا مغربی دنیا نے اس پر پابندیاں عائد نہیں کیں

مودی سرکار مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ”اسرائیلی ماڈل“پر عمل پیرا
آرایس ایس دنیا کی سب سے بڑی عسکری تنظیم ہے مگر آج تک اقوام متحدہ یا مغربی دنیا نے اس پر پابندیاں عائد نہیں کیں
بھارت میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بھارتی فورسزکی ظالمانہ کاروائیوں سے اب تک درجنوں افراد جانوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں کئی شہروں میں مودی سرکار کی ہدایات کی روشنی میں زخمیوں کو طبی امداد بھی نہیں دی جارہی اور آرایس ایس کے غنذے ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس کو چیک کررہے ہیں اور طبی عملہ کو خبراد کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی اور خاندان کی سلامتی کے لیے زخمیوں کے علاج سے گریزکریں.
اسی طرح آرایس ایس کے دہشت گردوں اور مودی سرکار کی جانب سے میڈیا ہاﺅسزپر بھی شدید دباﺅ ہے کہ وہ آرایس ایس اور بھارتی پولیس کی ریاستی دہشت گردی کی کوریج کو مثبت اندازمیں پیش کریں. بتایا جارہا ہے کہ وزیرداخلہ امیت شاہ کی زیر سرپرستی آرایس ایس کے غنذے ملک بھر میں مسلمانوں کی املاک کے بارے میں تفصیلات جمع کررہے ہیں اسی طرح مساجد اور مسلم وقف کے ملکیت جائیدادوں کی فہرستیں بھی تیار کی جارہی ہیں ‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشدد کے واقعات اور ہلاکتوں جو اعداد وشمار پیش کیئے جارہے ہیں وہ جعلی ہیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار دہلی سمیت مسلمان اکثریت والوں علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کررہی ہے بعض بھارتی تجزیہ نگاروںکا خیال ہے کہ ملک میں کچھ ”بڑا“ہونے جارہا ہے .ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 25کروڑ سے زیادہ بھارتی مسلمانوں کو چھیڑا گیا تو ملک میں بڑے پیمانے پر فسادات اور خانہ جنگی شروع ہونے کا خدشہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف متعصب پالیسیوں سے بھارت کے مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آئے گی.
تجزیہ نگار کانگرس اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی موجودہ صورتحال کا ذمہ قراردے رہے ہیں کہ جنہوں نے سینٹ میں اکثریت کے باوجود متنازع بل کو منظور ہونے دیا جس سے ان کے دوہرے معیارکا پتہ چلتا ہے قبل ازیں کانگرس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے قانون کو منظور کروانے میں بھی اندورن خانہ بی جے پی حکومت کا ساتھ دیا تھا.”اردوپوائنٹ “کے ایڈیٹراور تجزیہ نگار میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ بھارت تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے مسلح ونگ آرایس ایس کی کاروائیاں صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی جاری ہیں انہوں نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ آرایس ایس کے اراکین کی حیثیت سے ”ہندوستان صرف ہندﺅں کا “کے نعرے کو عملی جامع پہنارہے ہیں آرایس ایس کی جانب سے یہ نعرہ اس کے قیام کے ساتھ ہی سامنے آگیا تھا .انہوں نے کہا کہ مودی سرکار اسرائیل ماڈل پر کام کررہی ہے وہ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں آباد کروڑوں مسلمانوں کو ان کی املاک سے بے دخل کرکے انہیں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کرنے کے منصوبے پر عمل پیر اہے ان کا کہنا ہے کہ صورتحال کا درست طریقے سے اندازہ کرنے کے لیے آرایس ایس کے مائنٹ سیٹ کو سمجھنا ہوگا یہ وہی دہشت گرد تنظیم ہے 1927 کے ناگپور فساد ات میں اس کا اہم کردار تھا اور 1948 میں مہاتما گاندھی کا قتل اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن ناتھورام ونائک گوڑ نے کیا تھا.
راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ( آر ایس ایس) کا نظریہ ہے کہ بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکار یا عقیدت مند کو زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے . اگر آپ اس تنظیم کی ویب سائٹ پر جائیں تو وہاں آپ کو یہ قول نظر آئے گا جس میں انہوں نے ہندوﺅں کو بھارت کی ”سانس“قرار دیا ہے اور کہا کہ اگر انڈیا کو بچانا ہے تو ہندو تہذیب کو جلا بخشنا ہوگی“.
لیکن اگر آپ وکی پیڈیا پر دیکھیں تو یہاں اسے”ہندو قوم پرست نیم فوجی رضاکار تنظیم“ کہا گیا ہے ‘اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جو کہ اس تنظیم یا سنگھ پریوار (خاندان) کا سیاسی چہرہ ہے وہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے تو آر ایس ایس دنیا کی سب سے بڑی تنظیمی اکائی ہے اگرچہ اس تنظیم سے منسلک افراد کا دعویٰ ہے کہ اس کا قیام بھارت کو انگریزوں سے آزادی دلانے کے لیے عمل میں آیا تھا لیکن اس کے ناقدین اور شواہد بتاتے ہیں کہ اس نے عملی طور پر انگریزوں کے خلاف کوئی کام نہیں کیا بلکہ اس کے عسکری میلان کا سارا زور مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نکلا.
اس تنظیم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ پدرشاہی پر مبنی غیر ملکیوں سے نفرت کرنے والی اور آمریت پسند تنظیم ہے اور مسلمانوں کے بارے میں بظاہر خواہ کچھ بھی کہے لیکن یہ مسلمانوں کو غیر ملکی تصور کرتی ہے اور آئے دن ان کے رہنما مسلمانوں کو پاکستان جانے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں. ڈنمارک کے سکالر تھامس بلوم ہینسن نے اپنی کتاب”دی سیفرن ویو: ڈیموکریسی اینڈ ہندو نیشنلزم ان انڈیا“ میں لکھا ہے کہ انہیںجمہوری اقدار میں صرف برائے نام دلچسپی ہے‘یہ اپنے قیام سے لے کر اب تک بھارت کو ”ہندو راشٹر“ یعنی ہندو ملک بنانے کے مشن پر لگی ہوئی ہے وہ ہندوازم کو مذہب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ کہتی ہے.
بھارت کے سینیئر صحافی انل یادو کے مطابق عملی طور پر یہ مسلم اپیزمنٹ، تبدیلی مذہب، گوکشی، رام مندر، کامن سول کوڈ جیسے مذہبی معاملوں پر سرگرم عمل رہتی ہے جو اکثر فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بنتے ہیں اور لا تعداد رپورٹوں کے مطابق اکثر اس تنظیم پر فسادات میں شرکت کے الزامات لگتے رہتے ہیں. ہیڈگوار نے 1927 میں مسلمانوں کے خلاف 100 سویم سیوکوں کو تیار کیا تھا اور چار ستمبر کو لکشمی پوجا کے دن مسجد کے سامنے سے ڈھول باجے کے ساتھ جلوس لے جانے کی کوشش کی تھی اور جب مسلمانوں نے انھیں روکا تو آر ایس ایس کے کارکن تیار تھے انہوں نے مسلمانوں کو اس علاقے کو چھوڑنے پر مجبور کیا”ہندوتوا“نامی کتاب کے مصنف اور آر ایس ایس کے دوسرے اہم سربراہ ایم ایس گولورکر نے اپنے ایک خط میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح ناگپور کے دنگوں میں اپنے ہاتھ کا استعمال کیا تھا کتاب کے مصنف پروفیسر جیوتیرمے شرما کا کہنا ہے کہ ناگپور میں تو اپنے ہاتھوں کا بہت لوگوں نے استعمال کیا اگر آپ ان کے نظریے کے حامی ہیں تو آپ انھیں غیر گاندھی انقلابی کہیں گے اور اگر آپ ان سے اتفاق نہیں رکھتے تو آپ انھیں فسادی کہیں گے.
آر ایس ایس کے ہندو قوم پرست نظریے کی بنیاد بنکم چندر چیٹرجی کی تصانیف اور لالہ لاجپت رائے، وی ڈی ساورکر اور بال گنگا دھر تلک جیسے ہندو مہاسبھا کے رہنماو¿ں کی تصانیف میں نظر آتی ہے‘آرایس ایس نے خود کو ہمیشہ سماجی تحریک سے وابستہ رکھا اور بھارت میں جاری جنگ آزادی میں شامل پارٹیوں سے دوری قائم رکھی. اس نے گاندھی کے مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم رکھنے کے نظریے کو مسترد کر دیا گاندھی ان کی راہ کے سب سے بڑے سد راہ تھے اور آر ایس ایس نے نہرو، گاندھی اور پٹیل کو تقسیم ہند کا ذمہ دار قرار دیا‘پہلی بار 24 جنوری1947 کو یونینسٹ پارٹی کے رہنما اور اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ملک خضر حیات ٹوانہ نے پنجاب صوبے میں آر ایس ایس پر مسلم نیشنل گارڈ کے ساتھ پابندی لگا دی تھی لیکن تین چار دنوں میں یہ پابندی ہٹا لی گئی تھی.
دوسری بار بھارت کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد چار فروری 1948 کو آر ایس ایس پر پابندی عائد کی گئی‘اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان کا قتل کرنے والا ناتھورام گوڈسے آرایس ایس کا رکن تھا مہاتما گاندھی قتل معاملے میں جو جانچ کمیٹی قائم کی گئی تھی اس نے ناتھورام گوڈسے کو ذمہ دار قراردیتے ہوئے آر ایس ایس کو مہاتما گاندھی کے قتل سے تو بری الذمہ قرار دیا لیکن سردار پٹیل نے کہا تھا کہ گاندھی کی موت کے بعد آر ایس ایس کے لوگوں نے خوشیاں منائیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں.
آر ایس ایس کے سربراہ کو جب عدالت عظمی نے گاندھی کے قتل کے مقدمے سے بری کر دیا تو گولورکر نے نہرو کو خط لکھا کہ آر ایس ایس پر عائد پابندی اٹھا لی جائے نہرو نے جواب دیا کہ یہ کام وزیر داخلہ سردار پٹیل کا ہے اور جب سردار پٹیل سے اس بابت رجوع کیا گیا تو انہوں نے گولورکر کے سامنے شرط رکھی کہ وہ عوامی طور پر ہندوستان کے آئین سے اپنی وفاداری کا اعلان کریں، بھارت کے قومی پرچم ترنگے کو قبول کریں اور اپنی تنظیم میں اصلاحات لائیں جس میں سربراہ کے کردار کو واضح کیا گیا ہو.
ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آر ایس ایس نے کبھی بھارت کے آئین کو دل سے قبول نہیں کیا اور بار بار مختلف حلقے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی ہمنوا پارٹی جب دو تہائی اکثریت سے حکومت میں آئے گی تو وہ اسے بدل دیں گے‘اس تنظیم نے ایک زمانے تک اپنے ناگپور کے اپنے صدر دفتر میں ہندوستان کے قومی پرچم کی پرچم کشائی نہیں کی لیکن اب وہاں ترنگے کی پرچم کشائی ہوتی ہے.
آر ایس ایس کا اپنا پرچم بھگوے (یعنی زعفرانی) رنگ کا ہے جو انہوں نے مراٹھا حکمراں شوا جی کے جھنڈے سے لیا ہے اور شواجی کی ساری شہرت مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر سے مسلسل دشمنی اور جنگ پر مبنی ہے. آر ایس ایس پر تیسری بار اندرا گاندھی نے ایمرجنسی (1975-1977) کے زمانے میں پابندی لگائی تھی اور پھر اس کے بعد 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد آرایس ایس سمیت کئی دوسری ہندو تنظیموں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی لیکن ساری پابندیاں عارضی ثابت ہوئیں.
اس کی ہمنوا تنظیموں کی ایک لمبی فہرست ہے جسے ”سنگھ پریوار“ یعنی آر ایس ایس کا خاندان کہا جاتا ہے اور یہ دو درجن سے زیادہ پارٹیوں پر مشتمل ہے ان میں بی جے پی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی ان کا سیاسی چہرہ ہے جبکہ اسی طرز پر بھارتیہ کسان سنگھ، بھارتیہ مزدور سنگھ وغیرہ ہیں. تنظیم کے پورے ملک میں تربیتی کیمپ ہیں جہاں لوگوں کو بندوق‘لاٹھی، تلوار، بھالے اور دیگر ہتھیاروں سے تربیت دی جاتی ہے تازہ رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں 84 ہزارعسکری تربیتی کیمپ لگائے جاتے ہیںجنہیں شاکھائیں کہا جاتا ہے جن میں سے تقریبا 60 ہزار ر شاکھائیں وزانہ لگتی ہیںجہاں مردوں ‘عورتوں اور بچوں کو عسکری تربیت دی جاتی ہے یہ دنیا کی سب سے بڑی انتہا پسند تنظیم کہلاتی ہے جس کے کارکنوں کی تعداد کروڑوں میں ہے‘یہ ملک میں ابتدائی تعلیم کے لیے سرسوتی ششو مندر کے طور پر تقریبا 12000 سکول چلاتے ہیں جبکہ اتنے ہی سکول ودیا بھارتی کے نام سے ثانوی سطح کے چلاتے ہیں جہاں تقریبا 40 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں.
آر ایس ایس نے جنگ کے زمانے میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ کئی محاذوں پر کام کیا ہے خواہ وہ چین کے ساتھ 1962 کی جنگ ہو یا پھر تقسیم کے وقت کشمیر کی جنگ ہو یا پھر پاکستان کے ساتھ جنگیں ہوں مگر آج تک اقوام متحدہ‘انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ‘یورپی یونین یا دیگر مغربی ممالک کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قراردے کر اس پر پابندیاں عائد نہیں کی گئیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں