لاہور ہائیکورٹ کا بے قصور وکلاء کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا حکم 196

لاہور ہائیکورٹ کا بے قصور وکلاء کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا حکم جس نے گناہ کیا اس کو سامنا کرنا پڑے گا،جس نے نہیں کیا اُسے تنگ کیوں کیا؟۔جسٹس مظاہر علی نقوی

لاہور ہائیکورٹ کا بے قصور وکلاء کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا حکم
جس نے گناہ کیا اس کو سامنا کرنا پڑے گا،جس نے نہیں کیا اُسے تنگ کیوں کیا؟۔جسٹس مظاہر علی نقوی
لاہور ہائیکورٹ نے بے قصور وکلاء کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کے خلاف مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ جس نے گناہ کیا اس کو سامنا کرنا پڑے گا۔جس نے کیا اسے خمیازہ بھگتنا بھگتنا چاہئیے،جس نے نہیں کیا اسے تنگ کیوں کیا؟۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پی آئی سی کے سامنے پولیس نے جانے کی اجازت دی۔آئی جی پنجاب نے کہا پولیس نے کوئی اجازت نہیں دی۔عدالت نے استفسار کیا کتنے افراد اس واقعے میں جاں بحق ہوئے؟۔ہوم سیکرٹری نے بتایا کہ 3 افراد جاں بحق ہوئے۔عدالت نے ہوم سیکرٹری،آئی جی پنجاب اور ایڈوکیٹ جنرل کو چیمبر میں بلا لیا۔
عدالت نے 3 سینئیرز وکلاء کو بھی چمبر میں طلب کر لیا۔

گذشتہ روز بھی لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلا ی کی رہائی اور گھروں پر چھاپوں کے خلاف کیس میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور آئی جی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔گذشتہ سماعت میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو وکلا کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے نشاندہی کی کہ وکلا کی تمام تنظیموں نے نہ صرف اس واقعہ کی مذمت کی بلکہ ڈاکٹروں اور جاں بحق ہونے والوں کے لئے گلدستے بھی دئیے۔
بنچ کے سربراہ نے باور کروایا کہ کبھی بھی خود کو بار سے الگ نہیں سمجھا لیکن یہ ایک مسلسل روش کا نتیجہ ہے کبھی گاڑی والی خاتون اور کبھی نارووال کا واقعہ رونما ہوا۔۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ سب کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔فاضل جج نے افسوس کا اظہار کیا کہ معاملات اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ لوگوں کو نقاب پہناکر پیش کیا گیا۔یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا۔
فاضل بنچ نے ریمارکس دئیے کہ پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہاں جانے والوں نے سب کا منہ کالا کیا۔اگر وکلا ء لوگوں کے حقوق کیلئے لڑ سکتے ہیں تو اپنے حقوق کے لئے کیوں نہیں کھڑے ہوئے۔ ہم اپنے آپ کو محدود کرکے لوگوں کو بتانا چھوڑ چکے ہیں کہ ہم جج ہیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہسپتال میں وکلا ء کو جانے کی ضرورت کیا تھی جو کچھ میڈیا پر ہورہا ہے اور لوگ ویڈیو بناکرچلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی بہت کچھ ہے، معاملات ایک دو دن میں یہاں تک نہیں پہنچے۔جب کہ دوسری جانب پی آئی سی میں وکلا ء کی توڑ پھوڑ کے چھ روز بعد سروسز مکمل بحال ہو گئی ہے جب کہ ینگ ڈاکٹرز اور عملے نے اوپی ڈی میں کام شروع کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں