پاکستان کے خلاف دنیا کے65ممالک میں بھارتی کے 260جعلی این جی اوز اور ویب سائٹس کا انکشاف 220

پاکستان کے خلاف دنیا کے65ممالک میں بھارتی کے 260جعلی این جی اوز اور ویب سائٹس کا انکشاف

پاکستان کے خلاف دنیا کے65ممالک میں بھارتی کے 260جعلی این جی اوز اور ویب سائٹس کا انکشاف
بھارت کے شری واستو گروپ کے تحت کام کرنے والی جعلی این جی اوز اور ویب سائٹس عرصے سے پاکستان کے خلاف جعلی خبریں پھیلانے میں مصروف ہیں. رپورٹ میں انکشاف
برسلز: یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ”ای یو ڈس انفو لیب‘ ‘کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلی رپورٹ میں ان تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایک منظم طریقے سے ہر سال اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران پاکستان مخالف مہم چلاتی ہیں.
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان تنظیموں کے تانے بانے انڈیا کے ایک غیر معروف کاروباری ادارے سری واستوا گروپ سے جا ملتے ہیں رپورٹ کے مطابق اس پورے نیٹ ورک جس میں غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز)، ان سے منسلک شخصیات اور تمام فیک نیوز ویب سائٹس شامل ہیں کا انڈین حکومت سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کا مقصد انڈین بیانیے کو فروخ دینا اور بالخصوص پاکستان پر تنقید کرنا ہے.

ای یو ڈس انفو لیب کے ایگزیکیٹو ایلیکزانڈر الافیلیپ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا اس پورے نیٹ ورک کی سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ جعلی این جی اوز اور جعلی ویب سائٹس کی مدد سے وہ ایک ایسا بیانیہ پیش کرتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس مو¿قف کو بڑے پیمانے پر عام لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے ڈس انفارمیشن‘ ثابت ہوتی ہے.
واضح رہے کہ نومبر میں ”ای یو ڈس انفو لیب“ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 65 سے زائد ممالک میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس ہیں جو انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں. ای یو ڈس انفو لیب کی تحقیق کے مطابق یورپین آرگنائزیشن فار پاکستانی مائیناریٹی (ای او پی ایم) نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے باہر پاکستان مخالف احتجاج کا انعقاد کیا‘اگلے سال جنیوا کی سڑکوں پر”فری بلوچستان“ کے پیغامات سمیت کئی ایسے پوسٹرز نظر آئے جن میں پاکستان کی اقلیتوں کی حمایت کے لیے پیغامات درج تھے اور ان پر ای او پی ایم کا نام درج تھا.
ان پوسٹرز کی اشاعت کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو بلا کر باضابطہ احتجاج بھی کیا تھا اور مطالبہ کیا کہ ان پوسٹرز کو ہٹایا جائے‘ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ اس سال بھی جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر بلوچستان کے حوالے سے مظاہرے کیے گئے اور آن لائن مہم چلائی گئی اور ان تمام مظاہروں کی بھرپور تشہیر اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے ایک میڈیا ادارے’ ’ٹائمز آف جنیوا“ نے کی‘تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ”وائس آف پاکستانی مائناریٹی“ بھی اسی نیٹ ورک سے منسلک تنظیم ہے جو سوشل میڈیا اور جنیوا میں کافی فعال نظر آتی ہے.
ان کے ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ای او پی ایم کی ہر ٹویٹ اور مہم کو ری ٹویٹ کرتے ہیں اور اکثر ان افراد کو مخاطب کرتے ہیں جو اسلام دشمن خیالات رکھنے کے لیے مشہور ہیں‘اکتوبر میں یورپی یونین کے اپنے تحقیقی ادارے ”ای یو بمقابلہ ڈس انفو“ نے انکشاف کیا کہ یورپی پارلیمان کے حوالے سے خبریں شائع کرنے والا ”ای پی ٹوڈے‘ ‘نامی جریدہ، رشیا ٹوڈے اور وائس آف امریکہ کی خبریں چھاپ رہا ہے.
اس پر مزید کام کرتے ہوئے ای یو ڈس انفو لیب نے تحقیق کی اور بتایا کہ اس جریدے کا انتظام انڈین سٹیک ہولڈرز کے ہاتھ میں ہے جن کے تعلقات شری واستوا نامی ایک بڑے نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والی این جی اوز، تھنک ٹینکس اور ان سے منسلک افراد سے ہے‘تحقیق کے مطابق اس نیٹ ورک میں 250 سے زائد فیک ویب سائٹس سامنے آئیں جو پرانے اور غیر فعال یا جعلی نام والے اخبارات سے انڈین بیانیے کی حمایت والی خبریں شائع کر رہے تھے.
انھی ویب سائٹس پر پاکستان مخالف مواد شائع کیا جاتا اور فیک این جی اوز کی جانب سے شروع کی گئی مختلف مہم کی خبریں ہوتیں تھیںان فیک ویب سائٹس میں سب سے زیادہ معروف ٹائمز آف جنیوا تھی جس میں خبروں کے علاوہ کئی ویڈیو انٹرویو تھے جن کا مقصد اقوام متحدہ کے عہدے داران کی توجہ مبذول کرنا تھا‘لیکن 13 نومبر کو ای یو ڈس انفو لیب کی جانب سے کیے گئے انکشاف کے چھ دن بعد ٹائمز آف جنیوا نے خبروں کی اشاعت کا سلسلہ بند کر دیا برطانوی نشریاتی ادارے نے ٹائمز آف جنیوا کی ویب سائٹ پر دیے گئے نمبر پر رابطہ کرنے کی مسلسل کوشش کی لیکن جواب نہ مل سکا اس ادارے کا یوٹیوب چینل بند کر دیا گیا اور ان کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بھی معطل کر دیا گیا ہے‘ای یو ڈس انفو لیب کے ایلیکزانڈر الافیلیپ کہتے ہیں کہ اس نیٹ ورک کی تشکیل کا مقصد بین الاقوامی اداروں اور ان میں کام کرنے والے عہدے داران کی توجہ حاصل کرنا تھا.
ہم سمجھتے ہیں کہ اس نیٹ ورک کا اصل مقصد جنیوا اور برسلز میں پالیسی بنانے والے عہدے داران تک بغیر اپنی شناخت ظاہر کیے پہنچ حاصل کرنا تھا تاکہ ان کے خیالات پر اثر انداز ہوا جائے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے‘ایلیکزانڈر الافیلیپ نے یہ بھی کہا یورپی پارلیمان کے ممبران نے براہ راست اس نیٹ ورک سے منسلک افراد اور ویب سائٹس سے رابطہ کیا اور ان کے لیے مضامین لکھے، ان کی جانب سے بیرون ملک دوروں کی دعوتیں قبول کیں اور یورپی پارلیمان میں اس نیٹ ورک کے بیانیے کو پیش کیا.
اسی حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے محقق کارل ملر نے بتایا کہ ماضی میں ایسے تجربات دیکھنے میں آئے ہیں لیکن یہ نیٹ ورک اس لیے مختلف ہے کیوں کہ اس میں انھوں نے میڈیا پر اثرانداز ہونے کے بجائے خود کو میڈیا بنا کر پیش کیا‘فیک نیوز پر کام کرنے والے ایک اور محقق ریمنڈ سیراٹو کہتے ہیں کہ اس نیٹ ورک کی ایک انوکھی بات یہ تھے کہ انھوں نے ان فیک نیوز ویب سائٹس کی مدد سے یورپی پارلیمان کے عہدے داران کو یہ باور کرایا کہ ان کے مقاصد حقیقی ہیں اور انھوں نے اس حقیقت کو جانے بغیر اس بیانیے کو آگے بڑھایا.
پاکستان اور انڈیا کے مابین بیانیے کی جنگ عملی زندگی اور انٹرنیٹ دونوں پر ہی جاری ہے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور متعدد بار ’ففتھ جنیریشن وار‘ کا تذکرہ کرتے ہیں . بھارت کا یہ منظم نیٹ ورک پاکستان سے متعلق تنقیدی مواد سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 65ممالک میں کام کرنے والے جعلی خبروں کے اس نیٹ ورک کے تحت 265 ادارے کام کررہے ہیں جو پاکستان سے متعلق تنقیدی مواد سے اقوام متحدہ اور یورپی یونین پر اثر انداز ہونے کے لیے کام کرتے ہیں.
تحقیقات کے دوران ڈس انفو لیب کو معلوم ہوا کہ جعلی ویب سائٹس نے غیرمعمولی پریس ایجنسیوں سے لیا گیا پاکستان مخالف مواد کاپی پیسٹ کیا، سیاست دانوں اور مبہم تھنک ٹینکس کی جانب سے شیئر کیے گئے مواد کو بڑھاوا دیا جو بھارتی جغرافیائی مفادات کی حمایت کرتے ہیں‘انہوں نے پاکستان مخالف مواد کو دیگر بھارتی نیٹ ورک پر دوبارہ شائع کیا جس میں جعلی ادارے جیسا کہ ای پی ٹوڈے، ٹائمز آف جنیوا اور نیو دہلی ٹائمز وغیرہ شامل ہیں، اکثر ویب سائٹس ٹوئٹر پر بھی موجود تھیں‘تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ادارے بھارتی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے منظم کیے گئے تھے جن کا تعلق سری واستو گروپ کے تھنک ٹینکس، این جی اوز اور کمپنیوں کے ایک بڑے نیٹ ورک سے ہے.
رپورٹ میں ای یو ڈس انفو لیب نے جعلی ‘ این جی اوز اور یورپ میں پاکستان مخالف لابنگ پروگراموں کی ذمہ داروں تنظیموں سے وابستہ بھارتی نیٹ ورک کی آن لائن کوششوں کی تفصیل بھی بیان کی گئی‘مذکورہ پروگراموں کو بھی جعلی ‘ میڈیا اداروں کی جانب سے میڈیا کوریج دی جاتی تھی رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ کئی غیر واضح گروہ ہر سال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دووران پاکستان کے خلاف مظاہرے اور سوشل میڈیا مہمات چلاتے رہے ہیں انہوں نے ہر موقع پر انسانی حقوق کونسل کی براہ راست نشریات کا ہیش ٹیگ استعمال کیا تھا.
رپورٹ کے مطابق جینیوا میں پاکستان کے خلاف اقلیتوں سے سلوک کے موضوع پر چلائی جانے والی تمام مہمات کے پیچھے ای او پی ایم ( یورپی آرگنائزیشن فار پاکستانی مائنوریٹیز ) اور وی او پی ایم (وائس آف پاکستانی مائنوریٹیز) نامی تنظیمیں تھیں. ان مہمات میں اٹھائے جانے والے مسائل کا مقصد ملک میں اقلیتوں کے حالات اور پریشان حال گروہوں سے متعلق پاکستان پر تنقید کرنا ہے مارچ 2017 میں ای او پی ایم نے اونیکس میں پاکستان میں عیسائیوں کے خلاف ’مظالم‘ کی نشاندہی کے لیے روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا تھا.
بعدازاں 2017 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 36ویں اجلاس کے دوران ملک میں خواتین کے حقوق سے متعلق PakistanStopGenocide# مہم کا آغاز کیا تھا علاوہ ازیں ای او پی ایم نے اس مہم پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 36 ویں اجلاس کے دوران یہ اقدام پاکستانی خواتین سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیم اور یورپین آرگنائزیشن فار پاکستانی مائنوریٹیز کی جانب سے اٹھایا گیا تھا‘اس میں مزید کہا گیا تھا کہ ای او پی ایم نے اس مہم کے پوسٹرز ٹیکسی بائیکس پر آویزاں کیے ہیں.
علاوہ ازیں اسی تنظیم نے 10 ستمبر 2019 کو جینوا میں اقوام متحدہ کے باہر مہم کا انعقاد کیا اس دوران انسانی حقوق کونسل کا 42 واں اجلاس جاری تھا‘یہ مہم بلوچستان سے متعلق تھی اور اس میں دیگر کیسز کی طرح اقوام متحدہ کے باہر بڑے حروف میں ہیش ٹیگز آویزاں کیے گئے تھے اور نیٹ ورک کے اراکین کی جانب سے تقاریر اور کانفرنسز کی گئیں تھیں. رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ یورپی پارلیمنٹ کے کچھ اراکین مختلف چینلز کے ذریعے بھارتی نیٹ ورک کے ساتھ براہ راست مصروف عمل ہوگئے تھے جیساکہ ان کی میڈیا کوریج میں کردار ادا کرنا، کانفرنس میں شرکت کرنا اور ان کے کاز پر یورپی پارلیمنٹ کرنا شامل ہیں‘رپورٹ میں نامزد ایک ایسی شخصیت مدی شرما جو اپنا نام مدھو شرما بھی لکھتی ہیں جو 2002 سے یورپین اکنامک اور سوشل کمیٹی (ای ای ایس سی) کی برطانوی رکن ہیں‘انہوں نے یورپی یونین کی نامہ نگار کے طور پر ای پی ٹوڈے اور دہلی ٹائمز میں بھی لکھا ہے اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے متنازع دورے کے لیے یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ کے دعوت نامے بھی بھیجے تھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں