حکومت قرارداد لائے، اپوزیشن مکمل حمایت کرے گی، سردار ایاز صادق 211

اپوزیشن کا حکومت کو مکمل حمایت کا یقین

حکومت قرارداد لائے، اپوزیشن مکمل حمایت کرے گی، سردار ایاز صادق
وزیراعظم وزراء اوردیگرلوگوں کوبیرونی ممالک جانا چاہیے، دنیا کوبتائیں بھارتی مائنڈ سیٹ نے کشمیرکی آگ کو پورے بھارت میں پھیلا دیا، اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تواس کوبھی ضائع کردیں گے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال
پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ حکومت قرارداد لائے، اپوزیشن مکمل حمایت کرے گی، وزیر اعظم وزراء اور دیگر لوگوں کو بیرونی ممالک جانا چاہیے، دنیا کوبتائیں بھارتی مائنڈ سیٹ نے کشمیر کی آگ کو پورے بھارت میں پھیلا دیا، اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو اس کو بھی ضائع کر دیں گے۔
انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کی یہ لہر دنیا کے سامنے بھی جا رہی ہے۔ دنیا کو بتائیں بھارتی مائنڈ سیٹ نے کشمیر کی آگ کو پورے بھارت میں پھیلا دیا۔ عالمی سطح پر جامع سفارتی مہم شروع کی جائے۔ وزیر اعظم وزراء اور دیگر لوگوں کو بیرونی ممالک جانا چاہیے۔اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو اس موقع کو بھی ضائع کر دیں گے۔
ایوان کو بتایا جائے اسلامی ممالک اور دنیا کے سامنے کیسے اس موقع سے استفادہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قرارداد لانا چاہتی ہے تو نہ صرف تائید بلکہ مکمل حمایت کریں گے۔ پیپلزپارٹی کی رہنماء حنا ربانی کھر نے کہا کہ کشمیر پر قرارداد منظور کی تھی اس پر عملدرآمد کیا ہوا بتایا جائے۔ بھارت میں ہند وتوا جو کر رہی اس کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔ حکومت قرارداد لائے ، قرارداد کی حمایت کریں گے۔ مشینری کی درآمد زیادہ کم ہوئی جس کا مطلب معیشت نہیں چل رہی۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی 5ریاستوں نے متنازع قانون کو مسترد کیا۔5 بھارتی ریاستوں نے واضح کیا کہ متنازع قانون کا اطلاق نہیں کریں گے۔ پاکستان اور دنیا نے بھارت کے متنازع شہریت کے قانون کو مسترد کر دیا۔ مغربی ممالک بھی بھارتی شہریت قانون کوامتیازی قراردے رہے ہیں۔ قائد اعظم نے جو دو قومی نظریہ دیا تھا بھارت نے آج ثابت کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں متنازع قانون کیخلاف سخت احتجاج کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے مختلف شہروں میں اس قانون پراحتجاج ہورہا ہے۔ بھارت میں پر امن مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں کئی معصوم لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ بھارت میں خون خرابہ شروع ہو چکا ہے جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ہندوتوا سوچ کے خلاف رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ نہ صرف دلی بلکہ کئی بھارتی شہروں میں احتجاج برپا ہے۔
بھارت میں جو ہو رہا ہے پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں ہوئے قتل عام کی یاد کو تازہ کیا جارہا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں پر امن ریلی پر تشدد کیا گیا۔ آج مقبوضہ کشمیر میں گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جنہوں نے بھارت کے ساتھ تعاون کیا وہ بھی کہہ رہے ہیں غلطی ہوگئی۔ بھارت کہتاہے سب آجائیں قبول ہیں مسلمان قبول نہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ ہے آج کا بھارت ، مودی کا چہرہ جسے مسلمان قبول نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں