لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ کی وکلاء کی رہائی کی درخواست پر سماعت سے معذرت 205

لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ کی وکلاء کی رہائی کی درخواست پر سماعت سے معذرت معذرت صدر لاہور بار کے اعتراض کے بعد کی گئی،نئے بنچ کی تشکیل کے لیے درخواستیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال

لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ کی وکلاء کی رہائی کی درخواست پر سماعت سے معذرت
معذرت صدر لاہور بار کے اعتراض کے بعد کی گئی،نئے بنچ کی تشکیل کے لیے درخواستیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال
لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کی رہائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر لاہور بار نے بنچ پر اعتراض کر دیا۔جس کے بعد بنچ نے درخواستوں پر سماعت سے معذرت کر لی۔لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے صدر لاہور بار کے اعتراض پر درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔نئے بنچ کی تشکیل کے درخواستیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی گئیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران نے ملاقات کی تھی ۔ جس میں پی آئی سی واقعے اور قانون کی بالادستی کے امور پر بات چیت کی گئی۔ بتایا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وکلاء رہائی کے لیے لاہاور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے سی سی پو اولاہور ذوالفقارحمید نے کہا تھا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بولنے والے وکلاء کیخلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور نے کہا کہ پولیس نے متعدد وکلاء کو گرفتار کیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ذرائع سے فوٹیجز حاصل کی گئی ہیں جن سے ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ہنگامہ آرائی میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں، واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
قانون کی خلاف ورزی پر کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ذولفقارحمید نے واقعہ کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ایک رات قبل کو ڈاکٹرز اور وکلا کی آپس میں بات ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ وہ معذرت کریں گے اور وکلا نے بھی رضا مندی کا اظہا کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وکلا کی جانب سے ہنگامہ آرائی پہلے سے طے پلان کا حصہ نہیں تھا اچانک سب کچھ ہوا۔ پولیس معاملہ سنبھالنے کے لیے وقت پر پہنچ گئی تھی۔ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا کہ پی آئی سی میں وکلا کے آنے سے پہلے پولیس کی پانچ کمکیں پہنچ چکی تھیں لیکن ہم واقعہ ہونے سے پہلے کوئی اقدام نہیں کر سکتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں