سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا 201

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے،قانون نہ بن سکا تو 6 ماہ بعد آرمی چیف ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے،قانون نہ بن سکا تو 6 ماہ بعد آرمی چیف ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ تفصیلی فیصلہ
سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تفصیلی فیصلہ 39 صفحات پر مشتمل ہے۔تحریری فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک صفحے کا اضافی نوٹ تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی تنخواہ اور مراعات کا تعین صدر مملکت آرٹیکل 243کے تحت کرتا ہے۔
منتخب نمائندے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کریں۔معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے۔یہ یاد رکھیں کہ ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی۔کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی کا تھا۔منتخب نمائندے اس حوالے سے قانون سازی کریں، قانون کی عدم موجودگی میں راویت کو غیر یقینی دور کرنے کے لیے لاگو کیا جا سکتا ہے۔
آئین کے تناظر میں پارلیمان قانون سازی کے ذریعے معاملہ حل کریں۔ ہماری حکومت قوانین کی ہے یا افراد کی۔ ہمارے سامنے مقدمہ تھا کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع کی جا سکتی ہے۔آرمی چیف کی تقرری، ریٹائرمنٹ اور توسیع کی تاریخ موجود ہے۔پہلی بار یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں آیا۔سماعت کے پہلے روز درخواست گزار عداالت میں پیش نہیں ہوا۔آرمی چیف کی مدر ملازمت میں تین سال کی توسیع دی گئی۔
قانون کے تحت جنرل کے رینک کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر یا مدت ملازمت نہیں دی گئی۔درخواست گزار اگلی سماعت میں عدالت میں حاضر ہوا۔ادارہ جاتی پریکٹس کے تحت ایک جنرل 3 سال کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہوتا ہے۔ادارہ جاتی پریکٹس قانون کا موثر متبادل نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دی،وزیراعظم کو ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔
قانون اور آئین میں مدت ملازمت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو قانونی حمایت حاصل نہیں۔سال کی توسیع کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔تحریری فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ قانون نہ بن سکا تو 6 ماہ بعد آرمی چیف ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔اگر چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہو سکا تو صدر نیا آرمی چیف مقرر کریں گے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا ابتدائی فیصلہ 28نومبر کو سنایا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں