وفاقی وزیر فواد چودھری نے آرمی چیف کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر اعتراض اُٹھا دیئے 213

وفاقی وزیر فواد چودھری نے آرمی چیف کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر اعتراض اُٹھا دیئے فواد چودھری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف کی مُدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم موجود ہے

وفاقی وزیر فواد چودھری نے آرمی چیف کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر اعتراض اُٹھا دیئے
فواد چودھری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف کی مُدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم موجود ہے
گزشتہ ماہ سُپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج صاحبان نے پاک فوج کے آرمی چیف کی مُدت ملازمت کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیصلہ سُناتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے چھ ماہ کے اندر قانون سازی کا حکُم سُنایا۔ اس عدالتی فیصلے کے حوالے سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی یا آئین میں مُدت تعین کا نہیں کہہ سکتی۔
آرمی چیف کی مُدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم ہے۔ حدود متعین نہ ہوئی تو اختیارات کی جنگ جاری رہے گی۔ حکومت، اپوزیشن، فوج اور عدلیہ اپنی حدود متعین کریں۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج چاہتی ہے ان کے احتسابی عمل کو نہ چھیڑا جائے۔
میڈیا بھی چاہتا ہے اس پر قدغن نہ ہو۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی فواد چودھری آرمی چیف کی مُدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اعلیٰ ترین عدلیہ کی جانب سے سُنائے گئے فیصلے پر اپنا اختلافِ رائے ظاہر کیاتھا۔

جبکہ سینئیر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ملٹری لیڈر شپ کے مابین صلاح مشورے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ آرمی چیف کی ایکسٹیشن کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا اور اس کی روشنی میں اگلا قدم اٹھایا جائے گا،یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانون سازی کے لیے کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
صابر شاکر نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جائے گا جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا اس فیصلے پر نظرِثانی کی اپیل دائر کرنی ہے یا نہیں۔اس وقت نئے چیف جسٹس اپنا عہدہ سنبھال چکے ہوں گے اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ممکن ہے کہ نئے چیف جسٹس، جسٹس گلزار احمد اس نظرِثانی اپیل کو سنیں گے۔
خیال رہے کہ آرمی چیف کی توسیع پر قانون سازی کیلئے 3 رکنی حکومتی کمیٹی قائم کی تھی۔حکومت کو 6 ماہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کرنی ہے، نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی پر معاملات کا پر بحث کریں گے۔ کمیٹی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر شامل ہیں۔
یادرہے سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی اجازت دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر چھ ماہ کے اندر قانون سازی کرنے کی ہدایت کی تھی اورکہاہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،دوبارہ تقرری اور مدت ملازمت کا تعین کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں