مسلم مخالف متنازع بل: بھارتی شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری 210

مسلم مخالف متنازع بل: بھارتی شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری احتجاج کے سلسلے میں اب تک 2 افراد ہلاک جبکہ 14 زخمی ہیں

مسلم مخالف متنازع بل: بھارتی شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری
احتجاج کے سلسلے میں اب تک 2 افراد ہلاک جبکہ 14 زخمی ہیں
شہریت بل پر شمال مشرقی ریاستوں میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ہزاروں کی تعداد میں طلباءسڑکوں پرہیں، گوہاٹی میں بڑی تعداد میں لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں،اطلاعات کے مطابق پولس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی جس میں 2 مظاہرین ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے، تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
مظاہرین نے جمعرات کے روز ایک بی جے پی رکن اسمبلی کے گھر، گاڑیوں اور دفتر کو نذر آتش کر دیا۔ اس پر حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے گوہاٹی کے پولس کمشنر سمیت چیف پولس آفیسر کو معطل کر دیا۔
گوہاٹی اور شیلونگ میں تاحال کرفیو جاری ہے، جبکہ آسام کے ڈبروگڑھ میں صبح 8 بجے سے شام ایک بجے تک کرفیو میں نرمی کر دی گئی ہے۔ تشدد کا سلسلہ تیز ہونے کے پیش نظر ریاستی انتظامیہ نے 10 اضلاع میں عائد انٹرنیٹ کی پابندی میں اگلے 48 گھنٹوں کی توسیع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

دوسری جانب شہریت ترمیمی بل کے خلاف آسام میں جو پر تشدد مظاہروں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور جمعہ کی صبح گوہاٹی کے علاقے چاندماری میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے ذریعہ رکھی گئی بھوک ہڑتال میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ اس سے قبل گوہاٹی میں ہی جمعرات کی شام ہزاروں افراد کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرےبازی کی۔ واضح رہے کہ پُر تشدد احتجاج کے درمیان گزشتہ رات صدر ہند نے شہریت ترمیمی بل کو منظوری دے دی، جس کے بعد یہ بل قانون میں تبدیل ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں