برطانوی انتخابات میں حکمراں جماعت کی فتح،15 پاکستانی بھی کامیاب 219

برطانوی انتخابات میں حکمراں جماعت کی فتح،15 پاکستانی بھی کامیاب

برطانوی انتخابات میں حکمراں جماعت کی فتح،15 پاکستانی بھی کامیاب
لندن: سیاسی عدم استحکام سے دوچار برطانیہ میں عام انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، اب تک کے نتائج کے تحت بورس جانسن کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کو واضح فتح حاصل ہوگئی ہے، انتخابات میں دونوں بڑی پارٹیوں کے 15 پاکستانی نژاد امیدواروں نے بھی میدان مارلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پانچ سال کے دوران برطانیہ میں یہ تیسرا الیکشن ہے۔ پارلیمنٹ کی 650 سیٹوں کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ تاحال کنزرویٹوپارٹی نے 365 جب کہ لیبرپارٹی نے 203 سیٹیں حاصل کرلی ہیں، 48 نشستوں کے ساتھ اسکاٹش نیشنل پارٹی تیسرے نمبر پر ہے۔

بورس جانسن کا فاتحانہ خطاب

وزیراعظم بورس جانسن نے عام انتخابات میں اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی کی تاریخی فتح کے بعد پہلے خطاب میں ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ ووٹرز کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے 31 جنوری 2020 کو یورپی یونین سے اگر مگر کیے بغیر ہرحال میں علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ اور اس کیلیے پارلیمنٹ میں درکار اکثریت بھی حاصل ہوگئی۔

عالمی رہنماؤں کی بورس جانسن کو مبارکباد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورس جانسن کی جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب بریگزٹ ڈیل کے بعد امریکا اور برطانیہ ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کے لیے آزاد ہوں گے اور یہ تجارتی معاہدے یورپی ممالک سے کیے گئے معاہدوں سے کئی گنا زیادہ بڑے اور منافع بخش ہوں گے۔
جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے بھی بورس جانسن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس فتح سے کامیاب بریگزٹ ڈیل کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ فرانس اور یورپی یونین نے بھی بورس جانسن کو کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔

15 پاکستانی نژاد امیدوار بھی کامیاب
ان برطانوی انتخابات میں بھی پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے نہ صرف ووٹرز کی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ بطور امیدوار بھی انتخابی دنگل میں موجود تھے، 15 پاکستانی نژاد امیدواروں انتخابی معرکہ جیت بھی لیا جن میں سے 9 لیبر پارٹی کے اور 5 کنزرویٹو کے امیدوار تھے۔

کامیاب پاکستانی نژاد امیدوراوں میں لیبر پارٹی کی ناز شاہ، خالد محمود، یاسمین قریشی، افضل خان، طاہر علی، محمد یاسین، عمران حسین، زارا سلطانہ اور شبانہ محمود بھی شامل ہیں جب کہ کنزرویٹو پارٹی کی جانب پاکستانی نژاد نصرت غنی، عمران احمد، ساجد جاوید، رحمان چشتی اور ثاقب بھٹی کامیاب ہوئے۔

برطانیہ کے عام انتخابات میں پہلی بار 70 مسلمان امیدوار میدان میں

دوسری جانب برطانیہ کے عام انتخابات میں پہلی بار70 مسلمان امیدوار حصہ لے رہیں جب کہ گذشتہ انتخابات میں یہ تعداد 47 تھی۔ ان امیدواروں کی اکثریت کا تعلق پاکستان، بنگلا دیش اور کُرد نسل سے ہے، امید کی جارہی ہے کہ ان میں سے 24 امیدوار پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے جو کہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔

لیبر پارٹی نے ریکارڈ 33 پاکستانی نژاد برطانوی امیدواروں کو ٹکٹیں دی ہیں۔ ان میں بیڈفورڈ سے محمد یاسین، برمنگہم سے شبانہ محمود، بولٹن سائوتھ ایسٹ سے یاسمین قریشی اورمانچسٹرسے افضل خان شامل ہیں۔ فیصل رشید، ڈاکٹر روزینہ ایلین خان، روشن آرا علی اور روپا حق کے بھی الیکشن جیتنے کی امید ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے ساجد جاوید، نصرت غنی اور ثاقب بھٹی سرفہرست پاکستانی نثراد برطانوی امیدوارہیں۔

لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے کبھی بھی کسی پاکستانی نژاد برطانوی کو ٹکٹ نہیں دی، لیکن اس بار دو خواتین حنا بخاری اور حمیرہ ملک اس پارٹی کے ٹکٹ پرامیدوارہیں۔

ایگزٹ پول

ایگزٹ پولزکے مطابق کنزرویٹوپارٹی کو 368 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ایگزٹ پول کے تحت جب بھی کوئی ووٹر اپنا ووٹ ڈال کر باہر نکلتا تو اسے ایک فرضی بیلٹ پیپردے کر اپنی رائے کے اظہار کی درخواست کی جاتی ہے جس سے واضح طورپرممکنہ نتائج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

لیبرپارٹی کے سربراہ پارٹی قیادت سے مستعفی

لیبرپارٹی کے سربراہ جیرمی کاربن نے پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ نہیں لے سکا۔

برطانوی پونڈ کی قدر میں تین فیصد اضافہ

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایگزٹ پول کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی برطانوی پونڈ کی قدرمیں تین فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یورو کے مقابلے میں پونڈ کی قدرساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔

’برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال لیں گے‘

وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کو اپنی الیکشن مہم کا مرکزقراردیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر2019 کے عام انتخابات میں ایک اور موقع دیا گیا تو وہ 31 جنوری 2020 تک برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال لیں گے۔

قبل ازوقت انتخابات کی وجہ

یورپی یونین سے الگ ہونے کا معاملہ یعنی بریگزٹ ہی اس عام انتخابات کا سب سے اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دوبارہ الیکشن کا انعقاد کرنا پڑا ہے۔ 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد اس پرعملدرآمد ڈیڈلاک کا شکار رہا ہے اور یوں حالیہ عام انتخابات کے بعد صورتحال واضح ہونے کے امکانات ہیں۔

اس مسئلے پربرطانیہ کی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اختلافات شامل تھے۔ موجودہ وزیرِ اعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری انخلا چاہتی ہے جبکہ لیبرپارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن اس معاملے پر ایک اور ریفرنڈم کے خواہاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں