پی آئی سی واقعے پر وکلا کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات درج 206

پی آئی سی واقعے پر وکلا کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات درج

پولیس نے امراض قلب کے اسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملے پر وکلا کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرلیے۔

تھانہ شادمان میں وکلا کے خلاف پی آئی سی واقعے کے دو مقدمات درج کرلیے گئے ہیں جن میں سے ایک میں ڈاکٹر اور دوسرے میں پولیس مدعی بنی ہے۔

پی آئی سی اسپتال مکمل طور پر بند
250 سے زائد وکلا کے خلاف یہ کیسز درج ہوئے ہیں جن میں 15 سے زائد وکلا کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں دہشت گردی، اقدام قتل، ڈکیتی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تشددکا نشانہ بنانے، سرکاری کام میں مداخلت سے مریضوں کی جان جانے کی دفعات شامل ہیں۔

مقدمے کے مطابق وکلا نے اسپتال میں کروڑوں روپے کی مشینری اور املاک کو نقصان پہنچایا، نرسز ہاسٹل میں موجود خواتین کو ہراساں اور زدوکوب کیا جبکہ انچارج نرسز سٹاف انیقہ قاسم کے کپڑے پھاڑے اور لاکٹ بھی چھین لیا۔ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں پولیس اہلکاروں پر تشدد، ہوائی فائرنگ، پولیس وین جلانے اور شہریوں کی 80 کاروں کو نقصان پہنچانے کی دفعات حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وکلا کا امراض قلب کے اسپتال پر دھاوا، 6 مریض جاں بحق

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں وکلا نے ڈاکٹرز کے ساتھ تنازع پر پی آئی سی پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی تھی جس کے تنیجے میں طبی امداد نہ ملنے پر 6 مریض جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں