اہور میں وکلا کے حملے کے بعد رینجرز طلب پی آئی سی،گورنر ہاؤس،پنجاب اسمبلی،جی پی او چوک، پنجاب سول سیکرٹریٹ،ایوان عدل، لاہور لائیکورٹ، سپریم کورٹ اورآ جی آفس پر رینجرز تعینات 189

لاہور میں وکلا کے حملے کے بعد رینجرز طلب پی آئی سی،گورنر ہاؤس،پنجاب اسمبلی،جی پی او چوک، پنجاب سول سیکرٹریٹ،ایوان عدل، لاہور لائیکورٹ، سپریم کورٹ اورآ جی آفس پر رینجرز تعینات

لاہور میں وکلا کے حملے کے بعد رینجرز طلب
پی آئی سی،گورنر ہاؤس،پنجاب اسمبلی،جی پی او چوک، پنجاب سول سیکرٹریٹ،ایوان عدل، لاہور لائیکورٹ، سپریم کورٹ اورآ جی آفس پر رینجرز تعینات
لاہور میں وکلا کے حملے کے بعد رینجرز طلب کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی سی،گورنر ہاؤس،پنجاب اسمبلی،جی پی او چوک، پنجاب سول سیکرٹریٹ،ایوان عدل، لاہور لائیکورٹ، سپریم کورٹ اورآ جی آفس میں رینجرز تعینات کر دی کئی ہے۔ رینجرز کی 10 پلاٹون شہر کے مختلف مقامات پر تعینات ہو گی۔ پنجاب حکومت کے حکام کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں لاہور میں کشیدہ حالات کے پیش نظر لاہور کے اہم مقامات پر رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی مجھے اغواکرنے کی کوشش کی تھی ۔ انکا کہنا تھا کہ میرے عقب سے فائرنگ بھی کی تھی ۔ تفصیلات کے مطابق انکا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی اور مجھ پر حملہ ن لیگ کی سازش تھی۔
انکا کہنا تھا کہ مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، مجھ پر حملہ کرنے والے لیگی کارکنوں کی لسٹ سوشل میڈیا پر آنی شروع ہو گئی ہے۔

مریضوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائییگا۔انھوں نے کہا تھا کہ میرے عقب سے فائرنگ بھی کی گئی، حملے میں ملوث افراد کی حمزہ شہباز اور مریم نواز کے ساتھ تصاویر ہیں۔ اس سے قبل فاقی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ یاسمین راشد اور فیاض الحسن چوہان نہ ہوتے تو زیادہ نقصان کا خدشہ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ وزیرا علیٰ نے واضع پیغام دیا تھا کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون راجہ بشارت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھاکہ قانون ہاتھ میں لینے کی جو روایت شروع ہوئی ہے اسے ختم کیا جائیگا۔ انکا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث کچھ افراد کی شناخت کی جا چکی ہے۔انکا کہنا تھا کہ جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائیگی، وزیرا علیٰ نے واضع پیغام دیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔ انکامزید کہنا تھا کہ یاسمین راشد اور فیاض الحسن چوہان نہ ہوتے تو زیادہ نقصان کا خدشہ تھا۔ یاد رہے کہ پی آئی سی واقعے پر ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان اور ینگ ڈاکٹرز نے مشترکہ طور پر کل بروز ( جمعرات ) کو صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں