فیاض الحسن چوہان پر حملہ کرنے والے وکیل کا ن لیگ سے تعلق ثابت ہوگیا، تصاویر سامنے آگئیں اسد نقوی نامی وکیل مسلم لیگ ن کا کارکن ہے، حمزہ شہباز کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے، پارٹی اجلاسوں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے 194

فیاض الحسن چوہان پر حملہ کرنے والے وکیل کا ن لیگ سے تعلق ثابت ہوگیا، تصاویر سامنے آگئیں اسد نقوی نامی وکیل مسلم لیگ ن کا کارکن ہے، حمزہ شہباز کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے، پارٹی اجلاسوں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے

فیاض الحسن چوہان پر حملہ کرنے والے وکیل کا ن لیگ سے تعلق ثابت ہوگیا، تصاویر سامنے آگئیں
اسد نقوی نامی وکیل مسلم لیگ ن کا کارکن ہے، حمزہ شہباز کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے، پارٹی اجلاسوں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے
فیاض الحسن چوہان پر حملہ کرنے والے وکیل کا ن لیگ سے تعلق ثابت ہوگیا، تصاویر سامنے آگئیں، اسد نقوی نامی وکیل مسلم لیگ ن کا کارکن ہے، حمزہ شہباز کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے، پارٹی اجلاسوں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وکلاء کی جانب سے بدھ کے روز پنجاب کے سب سے بڑے امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی لاہور پر حملہ کیا گیا تھا جس کے باعث آخری اطلاعات تک 9 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
جبکہ اس تمام واقعے میں صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کو بھی وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں فیاض الحسن چوہان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے وکیل کا تعلق ن لیگ سے ہے۔ اب صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا دعویٰ درست ثابت ہوا ہے۔
ان پر حملے کرنے والے وکیل کی تصاویر سامنے آئی ہیں جس سے اس وکیل کا ن لیگ سے تعلق ثابت ہو گیا ہے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وکلا کے ایک ایکٹیویسٹ کی نشاندہی ہو چکی ہے، وہ شہباز شریف سے تعلق رکھتے ہیں، اس حملے میں ن لیگ کے محرکات بھی شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اسد نقوی نامی وکیل مسلم لیگ ن کا کارکن ہے اور حمزہ شہباز کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس پارٹی اجلاسوں بھی باقاعدگی سے شرکت بھی کرتا ہے۔
اسد کو جلد گرفتار کر لیے جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ طور پر اشتعال انگیز ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے پر وکلاء نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول دیا ، ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی ،علاج معالجہ معطل ہونے سے 9 مریض جاں بحق ہو گئے ،مشتعل وکلاء نے پولیس موبائل کو نذر آتش کردیا اورصوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان اور میڈیا نمائندوں کو بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں