تیز ترین انصاف کی مثال، سپریم کورٹ نے 15منٹ میں15کیسز نمٹا چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 9بج کر30منٹ پر کمرہ عدالت میں داخل ہوا،9بج کر 45منٹ پر واپس چلے گیا 216

تیز ترین انصاف کی مثال، سپریم کورٹ نے 15منٹ میں15کیسز نمٹا چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 9بج کر30منٹ پر کمرہ عدالت میں داخل ہوا،9بج کر 45منٹ پر واپس چلے گیا

تیز ترین انصاف کی مثال، سپریم کورٹ نے 15منٹ میں15کیسز نمٹا
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 9بج کر30منٹ پر کمرہ عدالت میں داخل ہوا،9بج کر 45منٹ پر واپس چلے گیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15 منٹ میں 15 مقدمات نمٹا دیئے ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جون میں دائر کی گئی فوجداری پٹیشن کی سماعت کی۔ جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بینچ نے مقدمات کی سماعت کی اور 15منٹ میں 15 کیسز نمٹا دیئے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ تمام قیدیوں کے مقدمات میں ایک ہی پوزیشن ہے۔ غلط پورٹ کے باعث بہت سے لوگ رہا ہوگئے ۔آئندہ یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے۔ آخری کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پراسیکیوٹر نے مو قف آختیار کیا کہ یہ بھی اسی طرح کا کیس ہے۔ جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے جواب میں کہا کہ سیم آرڈر پٹیشن منظور کی جاتی ہے۔
چیف جسٹس آصف کھوسہ نے 15 کیسز پر سماعت مکمل کرکے کرسی سے اٹھے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے۔

عدالتی عملے نے نظر دوڑائی تو 9بج کر45 منٹ کا وقت تھا، اس طرح سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 15 منٹ میں 15کیسز نمٹا دیئے۔ یاد رہے اس سے قبل بھی سپریم کورٹ کی جانب سے متعارف کرائے گئے ماڈل کورٹس نے ایک دن میں ایک ہزار مقدمات کے فیصلے کرئے تھے۔ انصاف کی بروقت فراہمی عوام کیلئے کسی خوش خبری سے کم نہیں کیوں کہ سالوں سال کیسز کا سامنا کرنا سائلین کے لئے پریشانی کا باعث بن جا تاہے۔
ایک کیس پر دیئے جانے والے وقت کی اوسط ایک منٹ نکلتی ہے۔ جو کہ تیز ترین فیصلہ ہے۔ تاہم اس سے قبل ماڈل کورٹ بھی ایک دن میں 11 ہزار سے زائد مقدمات نمٹا چکی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ماڈل کورٹس بھی چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے تشکیل دیئے تھے۔ اورانصاف کی جلد فراہمی کیلئے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اور اس پرعمل پیرا بھی نظر آتے ہیں۔ ماڈل کورٹس کے بعد سپریم کورٹ کا سائیلین کو جلد انصاف فراہم کرنا ترییز ترین انصاف کی مثال ہے۔
ط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں