پی آئی سی میں جاری وکلاء گردی نے بزرگ خاتون کی جان لے لی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے بعد ڈاکٹرز اور نرسز کے اسپتال سے چلے جانے پر مریضوں کا علاج رُک گیا 218

پی آئی سی میں جاری وکلاء گردی نے بزرگ خاتون کی جان لے لی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے بعد ڈاکٹرز اور نرسز کے اسپتال سے چلے جانے پر مریضوں کا علاج رُک گیا

پی آئی سی میں جاری وکلاء گردی نے بزرگ خاتون کی جان لے لی
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے بعد ڈاکٹرز اور نرسز کے اسپتال سے چلے جانے پر مریضوں کا علاج رُک گیا
وکلاء نے دل کے اسپتال کو میدان جنگ بنا دیا۔ڈنڈا بردار وکلاء پی آئی سی میں زبردستی داخل ہو گئے اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔وکلاء کے دھاوے کے بعد مریض بھی خوف کا شکار ہو گئے۔ جب کہ ڈاکٹرز اور نرسز کے اسپتال سے چلے جانے پر مریضوں کا علاج رُک گیا۔علاج نہ ملنے پر بزرگ خاتون گلشن بی بی انتقال کر گئیں۔
گلشن بی بی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ایک مریض کے بھائی کا کہنا ہے کہ آج میرے بھائی کے دل کا آپریشن ہے وکلاء کیا کر رہے ہیں؟۔میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ وکلاء نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد جشن بھی منایا جب کہ اس تمام صورتحال میں صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد خاموش ہیں،ذرائع کے مطابق یاسمین راشد کا نمبر بھی بند جا رہا ہے۔
جب کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے۔واضح رہے کہ وکلاء پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زبردستی داخل ہو گئے تھے،پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔ پی آئی سے کے باہر وکلاء کا ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ذرائع کے مطابق وکلاء نے پی آئی سی میں توڑ پھوڑ شروع کر دی ہے۔وکلاء ایم ایس آفس کے باہر پتھراؤ کرتے رہے جب کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
وکلاء نے صحافیوں سے بھی بدتمیزی کی،موبائل فونز اور کیمرے بھی چھین لیے۔پولیس کی بھاری نفری بھی پی آئی سی میں موجود ہے۔پی آئی سی ایمرجنسی کی چھت پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔وکلاء ایمرجنسی کا دروازہ کھول کر زبردستی اندر داخل ہو گئے۔ آپریشن کے دوران عملہ جان بچانے کے لیے فوراََ باہر نکل گیا۔ پولیس کی بھاری نفری بھی پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گئی ہے۔
وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کرنے والے ڈاکٹرز ہمارے حوالے کیے جائیں۔ڈاکٹر عرفان کو بھی ہمارے حوالے کیاجائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹرز نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں دوسری بار وکلاء سے معافی مانگی تھی۔خیال رہے کہ پنجاب بھر کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم گرینڈ ہیلتھ الائنس نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ملازمین کے خلاف وکلاء سٹاف جھگڑے کے الزام میں درج کئے گئے مقدمہ میں شامل دہشت گردی کی دفعات ختم ہونے پر ملازمین کو مبارک باد پیش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں