وکلاء نے لاہور کی اہم شاہراہوں کو بند کردیا، میٹرو بس سروس بھی معطل جی پی او اور مال روڈ بلاک، پی آئی سی کی ایمرجنسی بند کردی گئی 211

وکلاء نے لاہور کی اہم شاہراہوں کو بند کردیا، میٹرو بس سروس بھی معطل جی پی او اور مال روڈ بلاک، پی آئی سی کی ایمرجنسی بند کردی گئی

وکلاء نے لاہور کی اہم شاہراہوں کو بند کردیا، میٹرو بس سروس بھی معطل
جی پی او اور مال روڈ بلاک، پی آئی سی کی ایمرجنسی بند کردی گئی
وکلاء نے لاہور کی اہم شاہراہوں کو بند کردیا ، میٹرو سروس بھی معطل ہو گئی۔تفصیل کے مطابق پی آئی سے پر حملے کے بعد وکلا ء نے جی پی او چوک اور مال روڈ کو بلاک کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ میٹر و بس سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ حکام نے کشیدگی کے باعث میٹرو بس سروس کو شاہدرہ اور گونجومتہ پر بسوں کو پارک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وکلاء کی جانب سے سول سیکریٹری کا گھیراؤ کرکے راستہ بند کر دیا ۔ صوبائی دارلحکومت لاہور کو وکلاء نے بند کر دیا۔ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم رینجرز کی ٹیمیں پی آئی سی پہنچ گئی ہیں۔ وکلا ء کا احتجاج جی پی او چوک میں دھرنے کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ یاد رہے وکلاء نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پرکو تشدد کا نشانہ بنادیا۔
پی آئی سی کے باہر صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پر تشدد کیاگیا . وکلاء نے فیاض الحسن چوہان کو بالوں سے پکڑ لیا اور نوچنے کی کوشش کی۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ واقعہ میں ملوث وکلاء کے خلاف ایف آئی آرز کاٹی جائیں گی۔ مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وکلاء سے نمٹنے کیلئے سی سی پی او لاہور کی زیر صدارت اہم اجلاس بھی جاری ہے جس میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور وکلا سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کو عملی جامہ پنانے کیلئے پلان ترتیب دیا جارہا ہے۔ سی سی پی او لاہور نے کہاہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر 25افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوا ن نے کہا کہ کسی صورت بھی وکلاء کو لاقانونیت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ واضح رہے پی آئی سی کی ایمر جنسی کو وکلا ء کے حملے کے بعد بند کردیاگیا ہے۔ وکلاء نے پولیس کی گاڑی کوبھی آگ لگا دی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ پولیس حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں