لاہورمیں ایئرکوالٹی انڈیکس 400 کی خطرناک حد سے تجاوزکرگیا آلودگی کا تناسب 200 سے تجاوزکرنے پر انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوجاتا ہے. ماہرین 196

لاہورمیں ایئرکوالٹی انڈیکس 400 کی خطرناک حد سے تجاوزکرگیا آلودگی کا تناسب 200 سے تجاوزکرنے پر انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوجاتا ہے. ماہرین

لاہورمیں ایئرکوالٹی انڈیکس 400 کی خطرناک حد سے تجاوزکرگیا
آلودگی کا تناسب 200 سے تجاوزکرنے پر انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوجاتا ہے. ماہرین
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایئرکوالٹی انڈیکس 400سے تجاوزکرگیا ہے جو انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے‘شہرکے مرکزپنجاب اسمبلی کے علاقے میں ایئرکوالٹی انڈکس 418‘اپرمال پر470جبکہ سب سے کم180کوٹ لکھپت کے علاقے میں ریکارڈ کیا گیا ہے .دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق سینٹرل لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 240 ریکارڈ کیا گیا جب کہ واہگہ کے علاقے میں ایئر کوالٹی انڈیکس 492 ریکارڈ کیا گیا ہے.
طبی ماہرین کے مطابق شہر میں آلودگی بڑھنے سے شہری گلے، ناک اور سانس لینے میں دشواری سمیت دیگر بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں جب کہ ایئر کوالٹی انڈکس 200 سے زائد ہو تو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوجاتا ہے. پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اس برس بھی موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی سموگ نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پچھلے دو ہفتوں میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سموگ کی مقدار انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی تھی.
سوشل میڈیا صارفین، بعض ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ حکومت نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے موثراقدامات نہیں کیئے اور شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے. ایئر کوالٹی انڈیکس فضائی آلودگی میں موجود کیمائی گیسز، کیمائی اجزا، مٹی کے ذرات اور نہ نظر آنے والے وہ ان کیمائی ذرات کی مقدار ناپنے کا معیار ہے جنہیں پارٹیکولیٹ میٹر (particulate matter) کہا جاتا ہے۔
ان ذرات کو ان کے حجم کی بنیاد پر دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی پی ایم 2.5 اور پی ایم 10‘یہ چھوٹے کیمائی اجزا سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں.

پی ایم 2.5 کے ذرات اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف سانس کے ذریعے آپ کے جسم یں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ آپ کی رگوں میں دوڑتے خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں‘ایئر کوالٹی انڈیکس کا تعین فضا میں مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کے تناسب کو جانچ کر کیا جاتا ہے ایک خاص حد سے تجاوز کرنے پر یہ گیسز ہوا کو آلودہ کر دیتی ہیں. عالمی ادارہ برائے صحت نے ایئر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کیے ہیں جن کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی شہر یا علاقے کی فضا میں موجود پی ایم 2.5 ذرات کی تعداد 25 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں