سعودی عرب نے ریال کرنسی ختم کرنے کا اعلان کر دیا خلیجی سربراہ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2025ء تک تمام خلیجی ممالک کی کرنسی ایک ہو گی 231

سعودی عرب نے ریال کرنسی ختم کرنے کا اعلان کر دیا خلیجی سربراہ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2025ء تک تمام خلیجی ممالک کی کرنسی ایک ہو گی

سعودی عرب نے ریال کرنسی ختم کرنے کا اعلان کر دیا
خلیجی سربراہ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2025ء تک تمام خلیجی ممالک کی کرنسی ایک ہو گی
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنی اپنی کرنسی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاض میں گزشتہ روز سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی 40 ویں خلیجی سربراہ کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیاگیا ہے۔خلیجی سربراہ کانفرنس میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ،امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح، عمان کے نائب وزیراعظم فہد بن محمد آل سعید اور قطر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر بن خلیفہ آل ثانی شریک ہوئے ۔
عرب نیوز کے مطابق خلیجی کانفرنس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور دیگر خلیجی ممالک اپنی اپنی کرنسی کا استعمال ترک کر دیں گے۔
مستقبل میں خلیجی ممالک کی کرنسی مشترکہ ہو گی۔ اعلامیے کے مطابق خلیجی ممالک 2025ء تک مشترکہ کرنسی اختیار کر لیں گے۔ اس طرح کویتی دینار، سعودی ریال اور اماراتی دینار ختم ہو جائیں گے اور ان سمیت دیگر کئی ممالک میں مشترکہ کرنسی متعارف کرا دی جائے گی۔

اس سربراہ کانفرنس میں 10 ممالک کے خلیجی قائدین نے عزم کیا کہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی خاطر برادر اور دوست ممالک کے درمیان شراکت اور تعاون کو مضبوط بنایا جائے۔ جبکہ خلیجی ممالک کے امن کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے۔کانفرنس کے دوران اسٹریٹجک شراکت کو موثر بنانے، آپسی تعاون اور خلیج عرب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط لائحہ عمل اپنانے پر بھی زور دیا گیا۔
اس دوران پانی کی کمی اور زراعت کے شعبے سے مسائل پر بھی سوچ بچار کی گئی۔ خلیجی ممالک کے درمیان فوجی تعاون اور علاقے کی سیاسی صورتِ حال پر بھی بات کی گئی۔ جبکہ شورش زدہ علاقوں میں امن کے قیام پر بھی صلاح مشورہ کیا گیا۔ خلیجی قائدین نے اس عزم کو دُہرایا کہ کسی بھی خلیجی ملک پر کیا جانے والا حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ شمار ہوگا۔کسی ایک کو پیش آنے والا خطرہ سب کے لیے مشترکہ خطرہ تسلیم کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران کویتی باشندے نایف الحجرف کو جی سی سی کا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ کانفرنس کے اختتام پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ہے۔ الحجرف یکم اپریل 2020ء سے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں