سپریم کورٹ نے جج ویڈیو سکینڈل کیس پر نطر ثانی درخواست نمٹا دی 215

جج ویڈیو کیس: سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نظرثانی درخواست نمٹادی

جج ویڈیو کیس: سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نظرثانی درخواست نمٹادی
اسلام آباد ہائیکورٹ جج ویڈیو سکینڈل میں اپنا فیصلہ کرنے میں مکمل آزاد ہے، تحریری فیصلہ جاری کریں گے، چیف جسٹس آف پاکستان
جج ویڈیو سکینڈل میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے نظر درخواست نمٹا دی۔ درخواست سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ تفصیل کے مطابق جج ویڈیو سکینڈل میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے نظر درخواست نمٹا دی چیف جسٹس آف پاکستان نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں لکھی باتین پہلے کی مان چکے ہیں۔
فیصلہ میں پہلے بھی لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت کی گنجائش نہیں ۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ تحریری فیصلہ جاری کیا جائے گا ۔ ججز کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ جج ویڈیو سکینڈل میں اپنا فیصلہ کرنے میں مکمل آزاد ہے۔ فیصلہ میں لکھا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ اپنا طریقہ کار اپنائے۔
یاد رہےالعزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل 18 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہے ‘نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم کرنے کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی تھی . اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے تاہم عدالت نواز شریف کی مرکزی اپیل سے قبل جج ویڈیو کیس کے تناظر میں فیصلہ کرے گی‘جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ سماعت کرے گا‘جج ویڈیو کیس کے مرکزی کردار ناصربٹ نے نواز شریف کی اپیل میں فریق بننے کی درخواست کر رکھی ہے.نواز شریف نے ویڈیو کا فرانزک کرنے والے برطانوی ماہر سمیت 5 افراد کو عدالتی گواہ بنانے کی استدعا کی ہے‘العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل 18 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

تاہم العزیزیہ ریفرنس میں میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلہ سنا تے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں