سابق وزیراعظم کی بیٹی زیادتی کا شکار پارٹی سینیٹرنے 80کی دہائی میں زیادتی کا نشانہ بنایا ،صاحبزادی سابق آسٹریلوی وزیراعظم 194

سابق وزیراعظم کی بیٹی زیادتی کا شکار پارٹی سینیٹرنے 80کی دہائی میں زیادتی کا نشانہ بنایا ،صاحبزادی سابق آسٹریلوی وزیراعظم

سابق وزیراعظم کی بیٹی زیادتی کا شکار
پارٹی سینیٹرنے 80کی دہائی میں زیادتی کا نشانہ بنایا ،صاحبزادی سابق آسٹریلوی وزیراعظم
آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم باب ہاک کی بیٹی زیادتی کا شکار،روزلین ڈِلون نے الزام پارٹی سینیٹر پر عائد کردیا۔ تفصیل کے مطابق سابق آسٹریلوی وزیراعظم باب ہاک کی بیٹی روزلین ڈِلون نے انکشاف کیا ہے کہ 80 کی دہائی میں انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔روزلین نے کہا والد باب ہاک کی پارٹی کے ایک سینیٹر نے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔
ان کا کہنا ہے کہ کہ والد کو اس زیادتی کے بارے میں بتایا تو والد نے بدنامی کے خوف سے مجھے خاموش رہنے کا کہا گیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جب روزلین ڈِلون نے تیسری بار زیادتی پولیس کو رپورٹ کرنا چاہی تو والد ( سابق آسٹریلوی وزیراعظم) باب ہاک نے کہا کہ میں اپنے اردگرد ایسے متنازعہ بیانات کو برداشت نہیں کرسکتا، مجھے اس بات پر افسوس ہے مگر میں اس وقت لیبر پارٹی کی قیادت کررہا ہوں۔
تاہم لیبر پارٹی کے دوسرے ارکان نے بھی اس متنازعہ پر بات کرنے سے گریز کیا ۔ یاد رہے آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم باب ہاک 5مئی 2019 کو انتقال کر گئے تھے۔ ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ہاک کا انتقال انتہائی پرسکون انداز میں سڈنی میں ان کے گھر پر ہوا۔ نواسی سالہ باب ہاک 1983ءسے 1991ء تک آسٹریلیا کے سربراہ حکومت رہے تھے۔ ان کا تعلق لیبر پارٹی سے تھا۔
وہ اس جماعت کی جانب سے سب سے طویل عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے والے سیاستدان تھے۔ ہاک کا انتقال ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب ہفتے کے روز آسٹریلیا میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ تاہم اب ان ک کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی نے ایک نیا انکشاف کیا ہے جس میں انہوں نے پارٹی کے سینیٹر پر زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ یاد رہے کہ آسٹریلوی وزیراعظم باب ہاک کی صاحبزادی روزلین کا یہ دعویٰ اس موقع پر سامنے آیا ہے جب خاندان میں جائیداد کی تقسیم کے تنازع جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں