جنہوں نے بڑے بڑے چھکے مارے آج وہ جیلوں میں ہیں، چیئرمین نیب 203

جنہوں نے بڑے بڑے چھکے مارے آج وہ جیلوں میں ہیں، چیئرمین نیب،، بی آر ٹی اور مالم جبہ اراضی کے خلاف ریفرنس تیار ہے

جنہوں نے بڑے بڑے چھکے مارے آج وہ جیلوں میں ہیں، چیئرمین نیب
اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جنہوں نے بڑے بڑے چھکے مارے آج وہ پس زنداں ہیں یا ضمانتیں کرارہے ہیں۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین نیب نے کہا کہ مختلف شعبوں میں ترقی کے باوجود کرپشن میں بھی ترقی ہوئی، اقتدار کی ہوس کی خاطر ملک میں عجیب و غریب تجربات کیے گئے،کرپشن کے خاتمے تک ملک ترقی کے سفر پر گامزن نہیں ہوسکتا، کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کر سکتے، معاشرے میں خوبصورت یابدصورت شکل میں کرپشن موجود ہے، کرپشن کا خاتمہ صرف نیب نہیں ہرشہری کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب نے منزل کا تعین کر لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے نیب کی جنگ صرف کرپشن نہیں، نظام کےخلاف ہے، کسی کے کفن میں جیب نہیں ہوتی، خود احتسابی کا عمل کوئی نیا تحفہ نہیں، خوداحتسابی سے بہت بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ خوداحتسابی کا راستہ اختیار کیا جائے تو نیب،ایف آئی اے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بادشاہت اور شہنشاہیت میں احتساب کا کوئی تصور نہیں ہوتا، عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں سے کہوں گا ملکی مفادات کو مدنظر رکھیں۔یہ سب باتیں صرف اقتدار کی ہوس ہے۔

بی آر ٹی ریفرنس تیار

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیب کے معاملات میں داخل اندازی نہیں کی۔ ہواؤں کا رخ بدلنے والا ہے جو آئندہ چند ہفتوں میں محسوس کریں گے،بی آر ٹی اور مالم جبہ اراضی کے خلاف ریفرنس تیار ہے، عدالتی حکم کی وجہ سے بی آر ٹی پشاور منصوبے کی تحقیقات نہیں کرسکتے، عدالتی حکم امتناع ختم ہونے پر ایکشن لیاجائےگا ۔

کھربوں کے حساب سے منی لانڈرنگ

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ قوم کا پیسہ کھانے والوں نے عوام کے منہ سے نوالہ چھینا ہے، قوم کے پیسے سے بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں خرید لی گئیں، منی لانڈرنگ کرنے والے کہتے ہیں انتقام لیا جارہا ہے، اربوں کھربوں کے حساب سے منی لانڈرنگ کی گئی۔

حکومت ثابت کرے کہ ریاست مدینہ بنا رہے ہیں

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کے خوبصورت خواب کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے،خواب دیکھنے کا حق سب کو ہے لیکن کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جن کو مکمل کرنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، تقریروں سے کچھ نہیں ہوتا حکومت کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ ریاست مدینہ بنا رہے ہیں۔ لوگ اسلامی نظام کو ترس رہے ہیں، اس نظام میں عوام کم از کم دو وقت کھانا تو کھاسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں