مسلم لیگ(ن) کا 8 دسمبرکوحکومتی اقتصادی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کا اعلان مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن ہوگئی، کہاں گیا بجلی گیس سستی کرنے کا وعدہ؟ سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال 221

مسلم لیگ(ن) کا 8 دسمبرکوحکومتی اقتصادی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کا اعلان مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن ہوگئی، کہاں گیا بجلی گیس سستی کرنے کا وعدہ؟ سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال

مسلم لیگ(ن) کا 8 دسمبرکوحکومتی اقتصادی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کا اعلان
مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن ہوگئی، کہاں گیا بجلی گیس سستی کرنے کا وعدہ؟ سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال
پاکستان مسلم لیگ ن نے 8 دسمبر کو مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا کہ حکومتی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن کردی،کہاں گیا بجلی گیس سستی کرنے کا وعدہ؟ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ8 دسمبر بروز اتوار پاکستان مسلم لیگ ن ملک بھر میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور ریکارڈ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرے گی۔
حکومت کی اقتصادی پالیسیوں نے غریب اور متوسط طبقہ کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

کہاں گیا بجلی اور گیس سستی کرنے کا وعدہ؟ انہوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ عمران نیازی کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے سی پیک جیسے اہم قومی منصوبے کے خلاف بےبنیاد الزامات لگے اور دشمنوں کو پراپیگنڈہ کا موقع ملا۔

قومی منصوبوں پر سیاست کر کے ہم ملک کا نقصان کرتے ہیں۔ دوسری جانب وزارت توانائی نے رواں مالی سال جولائی سے اگست کی بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ ہائیڈل 5روپے 64 پیسے، گیس 8 روپے 33 پیسے، آر ایل این جی 13 روپے 83 پیسے، کوئلہ 12 روپے 4 پیسے، ونڈ 9 روپے 17 پیسے‘ سولر 10 روپے 66 پیسے فی کلو واٹ ہے جبکہ ملک میں اس وقت پیدا ہونے والی بجلی کا 30.8 فیصد آر ایل این جی ، 18 فیصد گیس ، 15.1 فیصد کوئلہ سے جبکہ صرف 9.5 فیصد پانی سے ہو رہا ہے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کو وزارت کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ نیوکلیئر سے 9 روپے 26 پیسے‘ ایچ ایس ڈی 17روپے 8 پیسے‘ ایران سے آنے والی بجلی 14 روپے 64 پیسے، گنے کے پھوگ سے 9 روپے 67 پیسے، ایف او سے 23 روپے 96 پیسے فی یونٹ پیداواری لاگت آرہی ہے۔ نیوکلیئر سے 5.1 فیصد بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ آر ایف او سے بجلی کی پیداوار چار فیصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں