راولپنڈی: چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع نہ کردیا جائے۔ 217

ریاست مدینہ کیلیے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھنا ہوگا، چیئرمین نیب

راولپنڈی: چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع نہ کردیا جائے۔

راولپنڈی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ریاست مدینہ کے خواب کو عملی شکل دینے کے لیے سب سے پہلے خود کو ٹھیک کرنا ضروری ہے، ریاست مدینہ اس وقت بن سکتی ہے جب ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع کیا جائے، یہ کام صرف حکومت کا نہیں ہے سب کو مل کر اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

چیرمین نیب نے کہا کہ بنیادی بات قانون کی حکمرانی ہے، جب کوئی قانون کی بالادستی کے لیے قدم اٹھتا ہے تو اسے تلخ حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارے ملک میں قوانین کی کوئی کمی نہیں اگر کمی ہے تو صرف اورصرف اس پر عملدرآمد کروانے کی، ہم چہرے کو نہیں صرف کیس کو دیکھتے ہیں، نیب انسان دوست ادارہ ہے ہمیشہ لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے ایسا نہیں ہےکہ نیب کا نام لے کر مائیں اپنے بچوں کو ڈرائیں۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف پہلی اینٹ ضرور رکھ دی ہے تاکہ عمارت تعمیر کی جاسکے، کرپشن کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح اور آخری منزل ہے، جب تک سب مل کر کام نہیں کریں گے تو بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا اس لیے سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور خوداحتسابی کےعمل سے خودکو گزاریں ، اس روش کو اپنانے سے ہی کرپشن کو رفتہ رفتہ ختم کیا جاسکتا ہے۔

جاوید اقبال نے مزید کہا کہ بطور چیئرمین ہر وہ قدم اٹھایا جو ادارے کی بہتری کے لیے تھا ملک سے بہترین افراد کا انتخاب کیا اور ان کی خدمات حاصل کیں،نیب میں کسی قسم کی سفارش نہیں ہوتی صرف اور صرف میرٹ کو برقرار رکھا جاتا ہے، اگر سفارش اور اقربا پروری کا اداروں میں خاتمہ ہوجائے تو ملک بہت جلد ترقی کرے گا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کی کسی سے وابستگی نہیں ہماری وفاداری صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے،اس کی قیمت ادا کررہے ہیں، جتنا احتساب اور بدعنوانی کےخلاف کارروائیاں اس دور میں ہوئیں ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی،پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ہمارا فرض ہے اب پاکستان کے لیے کچھ کریں، جبکہ میں صرف اور صرف وہ فرض ادا کررہا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں