وزیراعظم کی معاون خصوصی شمشاد اختر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا شماد اختر کو معاون خصوصی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ مقرر کیا گیا تھا 242

وزیراعظم کی معاون خصوصی شمشاد اختر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا شماد اختر کو معاون خصوصی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ مقرر کیا گیا تھا

وزیراعظم کی معاون خصوصی شمشاد اختر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
شماد اختر کو معاون خصوصی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ مقرر کیا گیا تھا
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی شمشاد اختر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شماد اختر کو معاون خصوصی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ مقرر کیا گیا تاہم اب انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن نے شمشاد اختر،یوسف بیگ مرزا کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر شمشاد اختر کو 12جولائی کو معاون خصوصی برائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مقررکیا تھا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر ماہر اقتصادیات، اور سابق گورنر اسٹیٹ بھی رہ چکیں، کابینہ ڈویژن نے ڈاکٹرشمشاد اختر کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔۔ ڈاکٹر شمشاد اختر ماہر اقتصادیات، اور سابق گورنر اسٹیٹ بھی رہ چکیں، ڈاکٹر شمشاد اختر نگران حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دے چکی ہیں۔

اس سے قبل یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ ملک کی ایک اور معروف ماہر معیشت نے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ اور اقتصادی کونسل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر نے اعلان کیا ہے کہ وہ نہ تو وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل ہوں گی، نہ ہی اقتصادی کونسل کا حصہ بنیں گی۔ ذرائع کے مطابق شمشاد اختر کو کئی ماہ قبل وزیراعظم عمران خان نے مشیر برائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مقرر کیا تھا۔تاہم شمشاد اختر نے اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا تھا۔ جس کے بعد شمشاد اختر نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیے جانے والا عہدہ قبول نہیں کریں گی۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک مشیر برائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے عہدے سے خوش نہیں تھیں۔ ان کی رائے میں یہ محکمہ مکمل طور پر غیر فعال ہے اور وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتیں۔ شمشاد اختر کسی دوسرے عہدے کے حصول کی خواہاں تھیں، تاہم وزیراعظم کی جانب سے انہیں کسی دوسرے عہدے کیلئے منتخب نہیں کیا گیا، اسی لیے انہوں نے اب کابینہ میں شامل نہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا ۔ جبکہ یہاں واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں بھی وزیراعظم کی اقتصادی کونسل کا حصہ نہیں بن پائے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں